اسپین میں بچوں کی پیدائش کے حوالے سے ایک نئی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ بچوں والی تقریباً 35 فیصد خواتین کے ہاں بچوں کی تعداد اتنی نہیں جتنی وہ چاہتی تھیں۔ یہ اعداد و شمار اسپین کے قومی ادارہ شماریات (INE) کی تازہ سروے رپورٹ کے ابتدائی نتائج میں سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2018 کے مقابلے میں یہ شرح تقریباً مستحکم رہی ہے۔ مردوں میں بھی تقریباً 30.5 فیصد افراد نے بتایا کہ ان کے ہاں بچوں کی تعداد ان کی خواہش سے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اسپین میں شادی، آزادانہ رہائش، مستحکم ملازمت اور مناسب معاشی حالات جیسے اہم مراحل زندگی میں مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔
آبادیات کی ماہر ماریونا لوزانو کے مطابق بچوں کی پیدائش کے لیے موزوں سمجھے جانے والے حالات بہت دیر سے میسر آتے ہیں۔ ان کے مطابق اسپین میں زیادہ تر خواتین کم از کم دو بچے چاہتی ہیں، تاہم 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق فی خاتون بچوں کی اوسط تعداد صرف 1.1 ہے۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 15.5 فیصد خواتین بچے پیدا نہیں کرنا چاہتیں، جو 2018 کے مقابلے میں تقریباً تین فیصد زیادہ ہے۔ 35 سے 39 سال کی عمر کی خواتین میں یہ شرح مزید بڑھ کر تقریباً 16.5 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
بچوں کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ خواتین نے ملازمت اور کام کے ساتھ گھریلو ذمہ داریوں میں توازن (27 فیصد) بتائی۔ اس کے بعد صحت کے مسائل 19 فیصد، معاشی وجوہات تقریباً 14 فیصد اور مناسب شریکِ حیات نہ ملنے کی وجہ تقریباً 10 فیصد خواتین نے بیان کی۔
رپورٹ کے مطابق اسپین میں خواتین تیزی سے دیر سے ماں بن رہی ہیں۔ 2024 میں پہلے بچے کی پیدائش کی اوسط عمر 31.5 سال تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رہائش کے مسائل، ملازمت کا عدم استحکام، معاشی دباؤ اور کام کے اوقات میں لچک کی کمی اس تاخیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ حمل کے لیے کوشش کرنے والی تقریباً 10 فیصد خواتین نے کسی نہ کسی مرحلے پر مصنوعی تولید یا معاون تولیدی علاج سے استفادہ کیا۔
