میڈرڈ/ اسپین میں جاری ہاؤسنگ بحران کے معاملے پر سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کانگریس نے حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ سے متعلق پیش کیے گئے دو حکمناموں کو مسترد کردیا، جن میں کرایہ داروں کے تحفظ، بے دخلی سے متعلق اقدامات اور کرایہ داری کے معاہدوں میں توسیع سمیت مختلف تجاویز شامل تھیں۔
اس پیش رفت کے بعد میڈرڈ کی کرایہ داروں کی یونین (Sindicato de Inquilinas) نے پارلیمنٹ پر معاشرے کی آواز نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ یونین کی ترجمان الیثیا دل ریو نے کانگریس کے باہر احتجاج کے دوران کہا کہ پارلیمنٹ ’’عوام کی بات نہیں سن رہی‘‘ اور اسے جمہوریت کے لیے سنگین قرار دیا۔
یونین کے مطابق حکومت کے دونوں اقدامات اگرچہ ان کے تمام مطالبات پورے نہیں کرتے تھے، تاہم وہ انہیں ہاؤسنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ابتدائی اور کم از کم اقدامات سمجھتی تھی۔ ان میں ایک حکمنامے کے تحت بعض حالات میں بے دخلی سے تحفظ اور کرایہ داری سے متعلق اقدامات شامل تھے، جبکہ دوسرے میں مخصوص شرائط کے تحت کرایہ داری کے معاہدوں کی خودکار تجدید کی تجویز تھی۔
دوسری جانب کانگریس میں دونوں حکمناموں کو اکثریتی حمایت حاصل نہ ہوسکی اور انہیں مسترد کردیا گیا۔ رپورٹوں کے مطابق PP، Vox اور Junts نے دونوں اقدامات کی مخالفت کی، جبکہ دیگر جماعتوں کے درمیان بھی دونوں متن پر مکمل اتفاق نہیں تھا۔
اس دوران ہاؤسنگ کے حق میں احتجاج کرنے والے افراد نے میڈرڈ کے Puerta del Sol میں احتجاجی کیمپ بھی قائم کر رکھا ہے۔ یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ احتجاج اور عوامی دباؤ جاری رکھے گی اور مستقبل میں مزید احتجاجی اقدامات پر بھی غور کرے گی۔
یہ معاملہ اسپین میں بڑھتے ہوئے ہاؤسنگ بحران اور کرایہ داروں کے تحفظ، مکان مالکان کے حقوق اور کرایوں کے ضابطے سے متعلق جاری سیاسی و سماجی بحث کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔
