بارسلونا/ بارسلونا کے پلازا کاتالونیا میں ہاؤسنگ کے مسئلے پر جاری احتجاجی کیمپ میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ جمعرات کی رات Sindicat de Llogateres یعنی کرایہ داروں کی یونین کے احتجاج میں شامل ہونے کے بعد کیمپ میں خیموں کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی۔
بدھ کے روز پلازا کاتالونیا میں تقریباً 50 خیمے موجود تھے، تاہم جمعرات کی رات 10 بجے تک ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً 200 ہوگئی۔
یہ اضافہ اس احتجاج کے بعد ہوا جو ہاؤسنگ کے مسئلے پر پلازا سانت جاؤمے میں منعقد کیا گیا تھا۔ بارسلونا بلدیہ کے مطابق احتجاج میں تقریباً 800 افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین نے شرکا کی تعداد 2 ہزار بتائی۔
بعد ازاں پلازا کاتالونیا میں قائم کیمپ میں شرکا کا ایک اجلاس ہوا، جس میں ہاؤسنگ بحران کے حل کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ بڑھانے کی خاطر عام ہڑتال کی کال دینے کا مطالبہ کیا گیا۔
احتجاجی کیمپ میں شرکا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف سہولیات بھی قائم کی جا رہی ہیں۔ وہاں کئی میزیں، مشروبات کے لیے ایک عارضی کاؤنٹر، کتابوں کا ایک گوشہ اور ضرورت مند افراد کے لیے ’’اوپن الماری‘‘ قائم کی گئی ہے، جہاں لوگ ضرورت کے مطابق کپڑے لے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے تحفظ کے لیے ’’پُنت لِلا‘‘ اور ایک معلوماتی مرکز بھی موجود ہے۔
جمعرات کی رات کیمپ میں بڑی تعداد میں نوجوان اور طلبہ بھی پہنچے۔ بارش سے بچاؤ کے لیے کئی خیمے اور ترپالیں بھی لگائی گئی ہیں۔ بلدیہ کے مطابق پلازا کاتالونیا میں تقریباً 450 افراد احتجاج میں شریک ہیں۔
احتجاج میں شریک طلبہ کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ کا مسئلہ پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے اور مستقبل میں نوجوانوں کے لیے بھی رہائش کا حصول مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
پاؤلا نامی ایک نوجوان نے کہا کہ وہ اب بارسلونا میں رہائش اختیار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اسی لیے Cerdanyola میں رہ رہی ہے۔ اس کے مطابق یہ صرف بارسلونا کا مسئلہ نہیں بلکہ اسپین کے تمام بڑے شہروں میں ہاؤسنگ کی صورتحال تشویشناک ہے۔
