بلباؤ: باسک نیشنلسٹ پارٹی (PNV) کے صدر ایتور ایستیبان نے اسپین کی مرکزی حکومت کے دوسرے ہاؤسنگ فرمان کو ’’انتہائی غیر معقول‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد سے کرائے کے لیے دستیاب مکانات کی فراہمی مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہے۔ انہوں نے 87 سالہ ماریکامن اباسکال کی بے دخلی کے چند روز بعد وفات کو بھی افسوس ناک قرار دیا اور رہائش کے بحران سے نمٹنے میں مرکزی حکومت کی برسوں کی ناکامی پر تنقید کی۔
یورپا پریس کے مطابق ایتور ایستیبان نے باسک نشریاتی ادارے EiTB کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماریکامن اباسکال کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ انتہائی افسوس ناک تھا اور اس واقعے نے سب کو متاثر کیا۔ انہوں نے مرحومہ کے اہل خانہ اور عزیزوں سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
ایتور ایستیبان کے مطابق حالیہ بے دخلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ ہاؤسنگ قوانین میں کچھ خامیاں موجود ہیں، جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور ان کی جماعت ہمیشہ سماجی بہبود اور رہائشی تحفظ کے اقدامات کی حامی رہی ہے۔
تاہم، دوسرے ہاؤسنگ فرمان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کرائے کے معاہدوں کی مدت پر مؤثر حد نہ ہونا اور مکان واپس حاصل کرنے کے لیے مالک مکان پر کرایہ دار کو ایک سال کے برابر رقم ادا کرنے کی شرط عائد کرنا انتہائی نامناسب ہے۔ ان کے خیال میں اس طرح کے اقدامات چھوٹے مکان مالکان کو کرائے پر گھر دینے سے دور کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں رہائشی مکانات کی قلت مزید سنگین ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی این وی پہلے ہاؤسنگ فرمان کی حمایت کر چکی ہے، لیکن دوسرے فرمان کی مخالفت کرے گی۔ ان کے مطابق ضرورت مند افراد کے تحفظ کے ساتھ چھوٹے مکان مالکان کے قانونی حقوق کی ضمانت بھی ضروری ہے۔
ایتور ایستیبان نے کہا کہ پہلا فرمان بھی مستقل حل کے بجائے عارضی انتظام ہے۔ حکومت کو رہائشی بحران کے بنیادی اسباب کا جائزہ لے کر ایک جامع قانون سازی کرنی چاہیے، جس سے مکانات کی تعمیر میں تیزی آئے اور کرائے کے لیے دستیاب گھروں کی تعداد میں اضافہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کے پاس اس بحران سے نمٹنے کے لیے برسوں کا وقت تھا، لیکن بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث مسئلہ اب سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔
