اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم اور ملکہ لیتیشیا 13 اکتوبر کو شمالی افریقی خودمختار شہر سیوتا کا دورہ کریں گے، جہاں وہ سیدی امباریک کے مسلم قبرستان میں حاضری دیں گے۔ اس قبرستان میں جولائی کے آخر میں اسپین میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے تارکینِ وطن کی قبریں موجود ہیں۔ شاہی جوڑا اس دورے کے دوران سیوتا میں رات بھی گزارے گا۔ جمہوریت کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ اسپین کا کوئی سربراہِ مملکت اس شہر میں رات قیام کرے گا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق 30 اور 31 جولائی کو تراخال سرحد کے راستے تقریباً 80 ہزار افراد کی اجتماعی آمد کے دوران سیوتا میں 82 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم، غیر سرکاری تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 140 تک پہنچ سکتی ہے۔ ان افراد کو دفن کرنے کے لیے قبرستان میں خصوصی جگہ مختص کی گئی تھی۔ چند روز قبل سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کی لاش بھی یہاں دفن کی گئی، جو بینیتیس کے ساحل پر ڈوبنے کے بعد ملی تھی۔
شاہی محل کے ذرائع کے مطابق اس دورے کی منصوبہ بندی اجتماعی آمد کے واقعے سے پہلے ہی شروع کر دی گئی تھی۔ بادشاہ اور ملکہ 13 اکتوبر کو سیوتا جبکہ 14 اکتوبر کو ملییا جائیں گے۔ دونوں شہروں میں مقامی حکام سے ملاقاتیں، سول سوسائٹی کے نمائندوں سے تبادلہ خیال، بادشاہ کی تقاریر اور تعلیمی اداروں کے دورے شامل ہوں گے۔
مراکش تاریخی طور پر سیوتا اور ملییا پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ تقریباً دو دہائیاں قبل 2007 میں بادشاہ خوان کارلوس اول اور ملکہ صوفیہ کے دورے پر مراکش نے شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
اس مرتبہ بھی فوجی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ شاہی دورے پر رباط کی جانب سے ردعمل سامنے آسکتا ہے۔
12 اکتوبر کو یومِ ہسپانیت کے موقع پر مسلح افواج کی پریڈ اور شاہی محل میں استقبالیہ ہوگا، جس کے اگلے روز بادشاہ کا سیوتا پہنچنا مراکش کے لیے واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے کہ سیوتا اسپین کا حصہ ہے۔
