میڈرڈ( 15 اکتوبر 2026 دوست نیوز)اسپین کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت ووکس (VOX) کے صدر سانتیاگو اباسکل نے جمعرات کے روز برسلز میں اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی سے ملاقات کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر اسپین بھی اٹلی کے طرزِ حکمرانی کو اپنائے تو وہ زیادہ مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر زیادہ قابلِ احترام ملک بن سکتا ہے۔
اباسکل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں ملاقات کو ’’مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور میلونی کو اپنی دوست کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی دنیا اس وقت ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہی ہے اور یورپ مزید مایوسی اور بے عملی کی بنیاد پر حکمرانی جاری نہیں رکھ سکتا۔
ووکس کے سربراہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اٹلی نے ایک مختلف راستے کا انتخاب کیا ہے اور آج وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور قابلِ احترام ملک ہے۔ ان کے مطابق اسپین بھی اسی طرح کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اباسکل یورپی سطح پر اپنی جماعت کے سیاسی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے برسلز میں ہنگری کے سابق وزیرِاعظم وکٹر اوربان، جمہوریہ چیک کے وزیرِاعظم آندریج بابش اور فرانس کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما مارین لی پین سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔
مارین لی پین نے ان ملاقاتوں کے دوران 29 نومبر کو ہونے والے اسپین کے عام انتخابات کے حوالے سے اباسکل کی حمایت کا اظہار کیا۔
اس کے علاوہ اباسکل نے ’’پیٹریاٹس فار یورپ‘‘ سے وابستہ رہنماؤں کے مشترکہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں یورپی ممالک کو درپیش مختلف سیاسی اور معاشی معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں سرحدوں پر کنٹرول، داخلی سلامتی، معاشی مسابقت میں اضافے اور قومی خودمختاری کے تحفظ جیسے موضوعات کو مشترکہ ترجیحات قرار دیا گیا۔
اباسکل کے حالیہ دورۂ برسلز اور یورپی دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کو اسپین میں آئندہ عام انتخابات سے قبل ان کے سیاسی رابطوں کی اہم سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اٹلی کے ماڈل کو اسپین میں اپنانے سے متعلق ان کے بیان کا عملی اطلاق انتخابی نتائج اور مستقبل کی پالیسیوں پر منحصر ہوگا۔
