میڈرڈ( 15 اکتوبر 2026 دوست نیوز)اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے پارلیمانی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جمعہ، 16 اکتوبر کو کانگریس میں توانائی بحران سے متاثرہ شہریوں اور کاروباری اداروں کو ریلیف دینے کے لیے پیش کیے گئے شاہی فرمان کی توثیق کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران نے یورپی یونین کی معیشت اور عوام کی مالی حالت پر بھاری دباؤ ڈالا ہے۔
برسلز میں جمعرات کو یورپی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے آمد کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سانچیز نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے تنازعے کو ’’غیر قانونی، غیر منصفانہ اور بلاجواز‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس تنازعے کے باعث یورپی یونین کے رکن ممالک کو اب تک 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس رقم کا موازنہ یورپی یونین کے سالانہ مشترکہ زرعی پالیسی کے اخراجات سے کیا۔
سانچیز نے کہا کہ اس بحران کے اثرات سرکاری خزانے اور عام شہریوں کی جیبوں پر نمایاں ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسپین نے رواں سال اب تک کاروباری اداروں، گھریلو صارفین اور متاثرہ شعبوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے 12 ارب یورو مختص کیے ہیں، جن میں بنیادی توجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے پر ہے۔
مجوزہ فرمان کے تحت پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس میں رعایت 31 دسمبر تک برقرار رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ گیس کے ریگولیٹڈ نرخوں اور بُوٹین گیس سلنڈر کی قیمتوں کو محدود رکھنے کے اقدامات بھی جاری رہیں گے۔
پیکیج میں بجلی پر ٹیکس میں کمی سے متعلق حفاظتی اقدامات، موسمِ سرما کے لیے قدرتی گیس کے ذخائر میں اضافہ، زراعت اور سڑکوں کے ذریعے مال برداری کے شعبوں کے لیے امداد بھی شامل ہے۔
یہ رواں سال مارچ میں پہلے پیکیج کی منظوری کے بعد حکومت کا تیسرا انسدادِ بحران منصوبہ ہے۔
سانچیز نے پارلیمانی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوامی مفاد میں اس کی منظوری دیں۔ حکومتی سربراہ کو امید ہے کہ بحران ختم ہونے کے بعد اسپین کی اقتصادی ترقی کی رفتار بحال ہو جائے گی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پاپولر پارٹی (پی پی) اور جونتس نے ابھی اپنے ووٹ کا حتمی اعلان نہیں کیا، تاہم ان کی حمایت متوقع ہے۔
