اسپین کے بعض اسپتالوں میں جنرل اینستھیزیا (مکمل بے ہوشی) دینے سے پہلے مریضوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان کی والدہ یا نانی وینزویلا سے تعلق رکھتی ہیں؟ اس سوال کی وجہ ایک موروثی جینیاتی تبدیلی بتائی جا رہی ہے، جس کا تعلق بے ہوشی کے لیے استعمال ہونے والی دوا سیوو فلورین (Sevoflurane) سے ہے۔
اسپین کے ریڈیو نیٹ ورک کیدینا سیر (Cadena SER) کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، مئی میں سامنے آنے والی ایک بین الاقوامی تحقیق میں جینیاتی تبدیلی m.11232T>C کا ذکر کیا گیا، جو وینزویلا سے مادری نسب رکھنے والے بعض افراد میں سیوو فلورین کے لیے غیر معمولی حساسیت کا سبب بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، میڈرڈ کے ایک اسپتال میں وینزویلا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو آپریشن کے دوران بے ہوشی کی دوا دی گئی، لیکن آپریشن کے بعد وہ بروقت ہوش میں نہ آ سکیں۔ خاتون کی والدہ بھی وینزویلا سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس واقعے کے بعد مریضوں کے خاندانی پس منظر اور ممکنہ جینیاتی خطرات پر توجہ دی جانے لگی۔
میڈرڈ کے سانتا کرستینا اسپتال میں کام کرنے والی ماہرِ بے ہوشی ڈاکٹر امل عزام نے بتایا کہ احتیاط کے طور پر اب ایسے مریضوں سے ان کے مادری خاندانی پس منظر کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جن افراد کی والدہ یا نانی کا تعلق وینزویلا سے ہو، ان کے لیے جینیاتی ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ خطرے کی شناخت کی جا سکے۔
اگر ٹیسٹ مثبت آئے تو طبی ماہرین سیوو فلورین استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں اور بے ہوشی کے متبادل طریقے اختیار کرتے ہیں۔ سیوو فلورین ایک گیس ہے جو آپریشن کے دوران مریض کو بے ہوش رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض مریضوں میں اس دوا سے متعلق دیر سے ہوش میں آنے، عضلات کی غیر معمولی حرکات، دماغ کے مخصوص حصوں کو نقصان پہنچنے اور سنگین اعصابی پیچیدگیوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ بعض کیسز میں چلنے پھرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی۔
تاہم، کسی شخص کی وینزویلا سے خاندانی نسبت بذاتِ خود بیماری کی تشخیص نہیں۔ جینیاتی ٹیسٹ اور طبی ماہرین کی جانچ اہم ہیں۔ آپریشن سے پہلے اپنے خاندانی پس منظر اور طبی تاریخ کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا مریض کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔
