اسپین کی دو بڑی دائیں بازو کی جماعتوں، پاپولر پارٹی (پی پی) اور ووکس نے سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ تقسیم ہونے سے روکنے اور اپنی نمائندگی بڑھانے کے لیے انتخابی معاہدہ کر لیا ہے۔ معاہدے کے تحت ووکس چھ صوبوں میں اپنے امیدوار کھڑے نہیں کرے گی، جبکہ پی پی بھی تین صوبوں میں سینیٹ کے لیے امیدوار نامزد نہیں کرے گی۔ یورپا پریس کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، دونوں جماعتوں کے درمیان اس معاہدے پر ایک ہفتے سے زائد عرصے تک خفیہ مذاکرات جاری رہے۔
ووکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ لاس پالماس، سانتا کروز دے تینیریفے، کادیز، ویلینسیا، کاستیون اور بالیئرک جزائر میں سینیٹ کے لیے اپنے امیدوار پیش نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ جماعت مزید 14 انتخابی حلقوں میں صرف ایک امیدوار میدان میں اتارے گی، جن میں سیوییا، اوئیلوا، آستوریاس، باداخوس، آلاوا، ناوارا، کاسیرس، اوسکا، سراغوسا، ایلیکینتے، غرناطہ، کوئنکا، پونتے ویدرا اور خاین شامل ہیں۔ باقی 23 صوبوں میں ووکس معمول کے مطابق انتخابات میں حصہ لے گی۔
دوسری جانب پی پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ گوئیپوسکوا، گیرونا اور تاراگونا میں امیدوار نہیں کھڑے کرے گی۔ پارٹی کے مطابق، گوئیپوسکوا میں اسے گزشتہ 26 برس سے سینیٹر منتخب کرانے میں کامیابی نہیں ملی، جبکہ گیرونا اور تاراگونا میں جمہوری دور کے دوران اسے سینیٹ کی نشست حاصل نہیں ہوئی۔
معاہدے کا بنیادی مقصد سینیٹ میں دائیں بازو کی جماعتوں کی اکثریت برقرار رکھنا اور تین پانچویں اکثریت، یعنی 161 نشستوں کے حصول کی کوشش کرنا ہے۔ اس اکثریت کے ذریعے آئینی عدالت اور عدلیہ کی جنرل کونسل (CGPJ) جیسے اہم اداروں میں تقرریوں اور تجدید کے عمل میں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
پی پی کے سیکریٹری جنرل میگوئل تیادادو نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اتفاق کا مقصد سینیٹ میں مرکزِ دائیں بازو کی اکثریت کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کے مطابق، ایوانِ بالا اسپین کی قومی تعمیرِ نو کے عمل کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔
یہ مذاکرات اس وقت شروع ہوئے جب سوشلسٹ پارٹی (PSOE)، فرنتے امپلیو اور علاقائی بائیں بازو کی جماعتوں نے سینیٹ کے انتخابات کے لیے مشترکہ اتحاد قائم کیا۔ اس پیش رفت کے بعد ووکس کے رہنما سانتیاگو اباسکال نے پی پی کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی پیشکش کی، تاکہ ووٹ تقسیم ہونے کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
دونوں جماعتوں نے واضح کیا ہے کہ ان کے سیاسی نظریات اور مؤقف مختلف ہیں، تاہم سینیٹ میں اپنی نمائندگی اور اثرورسوخ برقرار رکھنے کے معاملے پر وہ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہیں۔ آئندہ انتخابات میں یہ معاہدہ سینیٹ کی نشستوں کی تقسیم اور اہم قومی اداروں کی تجدید کے عمل کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
