بارسلونا میں بلوکس (Blocus) تحریک کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی کال کے بعد پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے ہنگاموں، توڑ پھوڑ اور دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات کے باعث شہر کے مرکزی علاقوں میں خوف و تشویش پائی جا رہی ہے۔
ممکنہ نقصانات کے خدشے کے پیش نظر متعدد تجارتی مراکز اور دکانوں نے اپنے معمولات تبدیل کر دیے ہیں۔ بعض دکانیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ کئی کاروباری اداروں نے اپنے شیشوں اور داخلی راستوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ہفتے کے روز بارسلونا کے مرکز میں خریداری کے لیے آنے والے مقامی شہریوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی، تاہم پاسیو دے گراسیا اور پلاسا دے کاتالونیا جیسے علاقوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد موجود رہی۔
بلوکس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپیلوں کے مطابق ہفتے کے روز تین مقامات پر اجتماعات کا اعلان کیا گیا ہے:
- شام 5 بجے: پلاسا دے کاتالونیا۔
- شام 5 بجے: آرک دے تریومف، پاسیو دے لوئس کمپنیس۔
- رات 8 بجے: پاسیو دے گراسیا، کاسا میلا کے قریب۔
فرانس سے شروع ہونے والی نوجوانوں کی بلوکس تحریک اب یورپ کے متعدد شہروں تک پھیل چکی ہے۔ 31 اکتوبر کے لیے 9 یورپی ممالک کے کم از کم 46 شہروں میں احتجاجی اجتماعات کی کال دی گئی ہے۔ جرمنی میں بھی ان اپیلوں کی سرگرمی نمایاں ہے۔
ابتدا میں اس تحریک کے مطالبات میں تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں اور اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج شامل تھا، تاہم اب اس میں مہنگے گھروں، بڑھتی ہوئی رہائشی لاگت اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی جیسے مسائل بھی شامل ہو گئے ہیں۔
24 اکتوبر کو بارسلونا میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد پولیس نے 130 افراد کو گرفتار کیا تھا، جن میں تقریباً 90 نابالغ تھے۔ گرفتار افراد میں 123 مرد اور 7 خواتین شامل تھیں۔
دوسری جانب اسپین کے مختلف شہروں میں بلوکس کے مبینہ منتظمین اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔ پولیس نے بارسلونا میں مزید ممکنہ بدامنی کے خدشے کے پیش نظر نگرانی سخت کر دی ہے۔
