والنسیا/ اسپین کے شہر والنسیا میں نیشنل پولیس نے تین افراد کو غیر قانونی امیگریشن میں مبینہ سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان میں مقیم ایک شخص کو اسپین لانے اور یہاں قانونی طور پر رہائش اختیار کرنے کے لیے ملازمت کا معاہدہ دلوانے کے نام پر 6 ہزار یورو وصول کیے۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ پاکستانی شہری نے اسپین آنے کے لیے مذکورہ افراد کو 6 ہزار یورو ادا کیے تھے۔ تاہم وعدے کے باوجود وہ اسپین منتقل نہ ہو سکا کیونکہ اس کے پاس ضروری ویزا اور مبینہ آجر سے متعلق درست دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب متاثرہ شخص کے والد نے پولیس اسٹیشن جا کر شکایت درج کرائی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کیں اور رقم کی منتقلی سمیت ملازمت کے مبینہ معاہدے سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا۔
پولیس تحقیقات کے مطابق گرفتار افراد نے مبینہ طور پر مختلف ذمہ داریاں سنبھال رکھی تھیں۔ ایک شخص نے ملازمت کا معاہدہ فراہم کرنے اور متعلقہ دستاویزات سرکاری ادارے میں جمع کرانے کا کام کیا، جبکہ دوسرا شخص پاکستانی شہری اور مبینہ آجر کے درمیان رابطہ کار تھا۔
تحقیقات کے مطابق رابطہ کار نے مجموعی رقم میں سے 3 ہزار یورو وصول کیے، جبکہ باقی 3 ہزار یورو تیسرے ملزم کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔
اسپین کے امیگریشن قوانین کے مطابق بیرون ملک سے ملازمت کے لیے آنے والے شخص کو صرف ملازمت کا معاہدہ حاصل کرنا کافی نہیں ہوتا۔ آجر کو پہلے متعلقہ حکام سے ورک اینڈ ریزیڈنس کی اجازت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ اس کے بعد بیرون ملک موجود کارکن کو متعلقہ ہسپانوی سفارت خانے یا قونصل خانے سے ویزا حاصل کرنا پڑتا ہے۔
پولیس کارروائی کے بعد تینوں گرفتار افراد کو عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے اور حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شخص کو 6 ہزار یورو ادا کرنے کے باوجود نہ ویزا ملا اور نہ ہی اسپین آنے کے لیے ضروری قانونی دستاویزات حاصل ہو سکیں۔
