ویلنسیا / بارسلونااسپین میں دکانوں میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی لہر کے پیچھے کام کرنے والے گروہ Blocus کا مبینہ سرغنہ گرفتار کر لیا گیا۔ ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق گواردیا سول نے جمعہ کے روز ویلنسیا کے علاقے پیکانیا (Picanya) میں کارروائی کرتے ہوئے 25 سالہ نوجوان کو حراست میں لیا ہے۔مقامی اخبار El Folio کے دعوے کے مطابق گرفتار نوجوان پاکستانی نژاد ہسپانوی شہری ہے۔تفتیش کاروں کے مطابق نوجوان نے ٹیلیگرام پر متعدد خفیہ گروپس بنا رکھے تھے اور خود کو Blocus اسپین کا بانی ظاہر کرتا تھا۔ اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک نقاب پوش خود کو اس تحریک کا لیڈر قرار دے رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ TikTok ویڈیوز اور AI سے بنے پوسٹرز پر QR کوڈ لگا کر اسکولوں کے واٹس ایپ گروپس میں پھیلاتا تھا۔ بچوں کو کہا جاتا تھا کہ بستے اور چارٹ لے کر آؤ تاکہ یہ احتجاج لگے، لیکن ساتھ ہی کالے کپڑے اور ماسک پہننے کی ہدایت بھی دی جاتی تھی۔حکام کے مطابق یہی نیٹ ورک 24 اکتوبر کو بارسلونا میں ہونے والے بڑے ہنگاموں کے پیچھے تھا جس میں تقریباً 500 افراد نے حصہ لیا اور متعدد دکانیں لوٹ لی گئیں۔گرفتار ملزم اسی طرز پر 31 اکتوبر کو ہالووین کی رات ویلنسیا، میڈرڈ اور دیگر شہروں میں لوٹ مار کی نئی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ منصوبہ تھا کہ ہجوم کو ایک جگہ جمع کر کے بعد میں پرائیویٹ چیٹ پر بتایا جائے کہ کون سی دکان پولیس سے خالی ہے۔گارڈیا سول کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں Blocus سے منسلک 10 افراد کو ویلنسیا، کاتالونیا، بلباؤ، ٹینیرفے اور ملاگا سے گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں 4 نابالغ بھی شامل ہیں۔ملزم کے خلاف سنگین عوامی فساد اور مجرمانہ تنظیم بنانے کے الزامات کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ اب عدالت میں جائے گا۔
