اسپین کی حکمران جماعت سوشلسٹ پارٹی (PSOE) نے تولیدو میں پیش آنے والے ہولناک ٹرین حادثے کے بعد اپنی انتخابی مہم کی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی اب جذباتی نعروں اور تقریبات کے بجائے حکومتی کارکردگی، عوامی مسائل اور مستقبل کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔
اس سے قبل وزیراعظم پیدرو سانچیز نے انتخابی مہم کے لیے ’’محبت کی مہم‘‘ (La campaña del amor) کا تصور پیش کیا تھا، تاہم ٹرین حادثے میں 69 افراد کی ہلاکت کے بعد پارٹی قیادت کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں اس انداز کی انتخابی سرگرمیاں جاری رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق انتخابی مہم کو زیادہ سنجیدہ اور محتاط انداز میں دوبارہ شروع کیا جائے گا، جبکہ ’’عوام کی طاقت‘‘ (La fuerza de la gente) کا نعرہ برقرار رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ اوسکار پوینتے، جو انتخابی فہرست میں بلدولید سے امیدوار بھی ہیں، حادثے کی وجوہات کی وضاحت اور بحران سے نمٹنے کی ذمہ داری سنبھالے رکھیں گے۔ وزیراعظم سانچیز نے انہیں وزارت سے ہٹانے یا استعفیٰ لینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم حکومتی ہدایت ہے کہ جب تک ہنگامی صورتحال جاری ہے، وزیر اپنی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے بجائے حادثے سے متعلق معاملات پر توجہ دیں۔
پوینتے نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی کے پیچھے چھپنے کے بجائے خود عوام کے سامنے جواب دیں گے اور تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیں گے۔ وہ منگل کو کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی پیش ہوں گے۔
پی ایس او ای کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ حادثے نے انتخابی مہم کا پورا ماحول بدل دیا ہے اور پوینتے کی موجودگی میں ہر سیاسی بحث حادثے کے گرد گھومتی رہے گی۔ دوسری جانب کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی مثبت پیغام اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے ذریعے اپنی مہم جاری رکھ سکتی ہے۔
سرکاری سوگ کی تین روزہ مدت اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد پارٹی بتدریج سیاسی سرگرمیاں بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نومبر میں میڈرڈ میں ہونے والی آئبرو امریکن سربراہی کانفرنس بھی وزیراعظم سانچیز کے لیے اہم سیاسی موقع ہوگی۔
تاہم پارٹی کے اندر اس بات پر اختلاف برقرار ہے کہ آیا انتخابی مہم اور ٹرین حادثے کے بحران کو الگ الگ رکھنا ممکن ہوگا یا نہیں۔
