بارسلونا/ اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے غیر معمولی عمل سے نہ صرف ہزاروں افراد کو قانونی روزگار کے مواقع ملنے کی توقع ہے بلکہ اس سے ملکی معیشت اور سرکاری خزانے کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
اسپین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ہر وہ تارکِ وطن جو غیر رسمی معیشت (بلیک اکانومی) سے نکل کر قانونی طور پر ملازمت اختیار کرے گا اور سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ ہوگا، وہ سالانہ تقریباً 6 ہزار سے 9 ہزار یورو تک ریاستی خزانے میں حصہ ڈال سکتا ہے۔
یہ تخمینہ 2005ء میں اسپین میں ہونے والی سابقہ غیر معمولی امیگریشن ریگولرائزیشن کے نتائج کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ تین ماہرینِ تعلیم Javier Vázquez-Grenno، Ferran Elias اور Joan Monràs نے اپنی تحقیق میں بتایا تھا کہ اس وقت قانونی حیثیت حاصل کرنے والے ہر تارکِ وطن نے اوسطاً سالانہ تقریباً 4 ہزار یورو سرکاری خزانے میں جمع کرائے تھے۔ موجودہ معاشی حالات اور تنخواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رقم بڑھ کر 6 سے 9 ہزار یورو سالانہ ہونے کا اندازہ ہے۔
کاتالونیا میں ایک ہزار سے زائد افراد پر کیے گئے سروے کے مطابق، قانونی حیثیت حاصل کرنے کے خواہش مند تارکینِ وطن میں بڑی تعداد 20 سے 34 سال کی عمر کے تعلیم یافتہ افراد کی ہے۔ ان میں تقریباً 25 فیصد یونیورسٹی یا اعلیٰ تعلیم یافتہ جبکہ 60 فیصد کے قریب افراد نے ثانوی یا تکنیکی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔
تاہم ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ تارکینِ وطن کو بھی اپنی قابلیت کے مطابق ملازمتیں نہیں ملتیں۔ سروے کے مطابق، ہر دس میں سے آٹھ افراد ابتدا میں کم مہارت والے کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بعض ایسے افراد بھی ہیں جو اپنے ملکوں میں ڈاکٹر تھے لیکن اسپین میں بچوں کی دیکھ بھال یا دیگر معمولی ملازمتیں کر رہے ہیں۔
سروے میں مردوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 940 یورو اور خواتین کی 800 یورو بتائی گئی، جبکہ کم از کم ماہانہ تنخواہ 1,424 یورو ہے۔
ماہرین کے مطابق قانونی حیثیت ملنے سے سوشل سیکیورٹی کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، جبکہ صحت اور تعلیم جیسی عوامی سہولیات پر فی کس اخراجات میں اضافے کا کوئی واضح ثبوت سابقہ تحقیق میں سامنے نہیں آیا۔
