اسپین کے شہر بادالونا کے میئر اور پاپولر پارٹی (PP) کی جانب سے بارسلونا کے امیدوار خاویر گارسیا البیول نے اگست میں جن غیر قانونی قابضین کا سرعام سامنا کیا تھا، ان کی عمارت خالی کرائے جانے پر کامیابی کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ 20 اگست کو گارسیا البیول نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں وہ بادالونا کے علاقے لا سالوت میں ایک تجارتی عمارت پر غیر قانونی قبضہ کرنے والے افراد سے بات کرتے دکھائی دیے تھے۔ ان کے مطابق یہ افراد عمارت میں رہائش اختیار کرنے کے ساتھ علاقے میں لڑائی جھگڑوں، شراب نوشی، شور شرابے، تشدد اور چوری کی وارداتوں کے ذریعے مقامی رہائشیوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے۔
گارسیا البیول نے اس وقت ان افراد کو سخت لہجے میں علاقہ چھوڑنے اور کام کرنے کا کہا تھا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ عمارت کو قابضین سے خالی کرایا جائے گا۔
اب دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ موسوس دی اسکوادرا پولیس نے عدالتی حکم کے تحت کارروائی کرتے ہوئے عمارت خالی کرا لی ہے اور وہاں موجود قابضین کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی شہریوں اور متعلقہ انتظامی اداروں کی شکایات کے بعد عمل میں آئی۔
گارسیا البیول کے مطابق اسپین میں عام حالات میں غیر قانونی قبضے کے خلاف بے دخلی کا عدالتی عمل دو سے تین سال تک جاری رہ سکتا ہے، تاہم اگر پاپولر پارٹی انتخابات جیتتی ہے اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف قانون میں مجوزہ ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو قابضین کو 48 گھنٹوں میں بے دخل کرنے کا راستہ ہموار کیا جائے گا۔
پاپولر پارٹی کے سربراہ البرتو نونیز فیخو کی جانب سے گارسیا البیول کو بارسلونا کا امیدوار نامزد کرنا بھی کاتالونیا میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور غیر قانونی قبضوں کے مسئلے پر پارٹی کی توجہ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گارسیا البیول شہری تحفظ اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت مؤقف کے باعث بادالونا کی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
