اسپین کے شہر بادالونا کے مرکزی تجارتی علاقے میں دکانوں اور ریسٹورنٹس کے مالکان رات کے وقت ہونے والی مسلسل چوری کی وارداتوں سے پریشان ہو کر حفاظتی اقدامات کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ متعدد کاروباری مراکز نے اپنی دکانوں کے شیشوں اور دروازوں پر نمایاں نوٹس آویزاں کر دیے ہیں، جن پر لکھا ہے کہ دکان بند ہونے کے بعد کیش کاؤنٹر میں کوئی نقد رقم موجود نہیں ہوتی۔
گزشتہ چند روز کے دوران بادالونا کے مرکزی علاقے کی مختلف دکانوں نے رات کے وقت اپنے داخلی دروازوں اور شیشوں پر واضح طور پر یہ پیغامات لگانا شروع کیے ہیں کہ دکان میں رات کے وقت نقد رقم نہیں چھوڑی جاتی۔
یہ اقدام کاروباری مراکز میں مسلسل ہونے والی چوری اور نقب زنی کی وارداتوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
حالیہ واقعات میں شہر کے مرکز میں واقع معروف پیزا ریسٹورنٹ L’Antica Pizzeria da Michele بھی شامل ہے، جہاں گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بار چوری کی وارداتیں ہو چکی ہیں۔ اسی طرح مصروف سڑکوں، خصوصاً پیئتات (Pietat) اسٹریٹ پر واقع موبائل فون کی دکانیں بھی ان وارداتوں سے متاثر ہوئی ہیں۔
تجارتی علاقے کے دکانداروں اور ملازمین میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔متاثرہ کاروباری مرکز کے ایک انچارج نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے مسلسل چوری کی وارداتیں ہو رہی ہیں اور دکاندار سمجھ نہیں پا رہے کہ اس صورت حال سے کیسے نمٹا جائے۔
ان کے مطابق’’ہماری دکان پر مسلسل کئی بار چوری ہو چکی ہے۔ چور رات گئے دکان کا شٹر توڑ دیتے ہیں یا شیشے توڑ کر اندر داخل ہوتے ہیں تاکہ کیش کاؤنٹر سے رقم حاصل کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رات کے وقت ہم دکان میں کوئی رقم نہیں چھوڑتے، اس لیے چور جتنی رقم لے جا سکتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ نقصان ہمیں شٹر، شیشے اور دروازوں کی مرمت پر اٹھانا پڑتا ہے۔‘‘
اسی وجہ سے دکانوں کے باہر نمایاں نوٹس لگانا چوروں کو روکنے کی آخری کوشش بن گیا ہے۔
’’یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے کہ ہمیں اس طرح کاروبار کرنا پڑ رہا ہے، لیکن امید ہے کہ دروازے پر لگا نوٹس پڑھ کر چور واپس چلے جائیں گے اور کم از کم ہماری دکان کے داخلی دروازے کو دوبارہ نقصان نہیں پہنچائیں گے۔‘‘
یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں بلکہ اب بادالونا کے مرکزی تجارتی علاقے میں ایک عام صورت حال بنتی جا رہی ہے۔
دکانداروں اور مقامی رہائشیوں کے مطابق چوروں کا بنیادی ہدف کیش رجسٹر میں موجود نقد رقم ہوتی ہے۔ تاہم زیادہ تر واقعات میں شٹر، شیشے اور دروازے توڑنے سے ہونے والا مالی نقصان چوری ہونے والی رقم سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انشورنس کمپنیوں سے نقصان کی تلافی حاصل کرنے اور مرمت کے معاملات میں بھی کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔
تجارتی علاقے کے ایک اور کاروباری شخصیت نے بتایا’’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پیزا ریسٹورنٹ، موبائل فون کی دکان اور کیفے سمیت ہر جگہ ایسے نوٹس لگے ہوئے ہیں۔ رات کے وقت شہر کے مرکز میں یہ ایک عام منظر بنتا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا’’ہم پولیس کی معمول کی گشت کو سراہتے ہیں، لیکن ہمارا احساس ہے کہ رات کے وقت پولیس کی مسلسل اور اضافی نفری کی ضرورت ہے۔ ہمیں زیادہ پولیس اہلکار چاہئیں تاکہ چوری کی وارداتیں ہونے اور دکانوں کو نقصان پہنچنے سے پہلے ہی ان کی روک تھام کی جا سکے۔‘‘
متاثرہ دکانداروں کو امید ہے کہ اس مسئلے کو نمایاں کرنے سے شہر کے مرکزی تجارتی علاقے میں پولیس کی نگرانی بڑھائی جائے گی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پایا جا سکے گا۔
ان وارداتوں سے نہ صرف مقامی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ دکانداروں اور ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
