یونان میں این جی او کارکنوں کو ’جان بچانے‘ پر مجرم بنایا جا رہا ہے،سونیا بیلرون
Screenshot
میڈرڈ (دوست نیوز) تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (Médecins Sans Frontières – MSF) نے یونان میں پیش کیے گئے ایک مجوزہ امیگریشن قانون پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں اور کارکنوں کو عملاً “مجرم” بنا دیتا ہے۔
ایم ایس ایف کے مطابق اس قانون کے تحت جان بچانے یا طبی امداد فراہم کرنے جیسے اقدامات کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ کسی این جی او سے وابستگی کو مہاجرین سے متعلق جرائم میں سخت تر سزا کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کسی این جی او کے صرف ایک رکن کے خلاف فوجداری کارروائی شروع ہونے پر ہی اس تنظیم کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے، چاہے عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ آیا ہو۔
یونان میں ایم ایس ایف کی جنرل کوآرڈینیٹر سونیا بیلرون نے تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا:
“یکجہتی اور انسانی امداد کوئی جرم نہیں، مگر نیا امیگریشن قانون انسانی ہمدردی کے کام کو جرم بنا رہا ہے۔ این جی او سے وابستگی کو جرم میں شدت پیدا کرنے والا عنصر بنا کر، امدادی کارکنوں کو محض جان بچانے، طبی امداد دینے یا پناہ کے متلاشی افراد کی مدد کرنے پر دس سال تک قید اور بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”
بیلرون کا کہنا تھا کہ اس شق کی شمولیت یورپی یونین اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، یہ قومی اور بین الاقوامی اداروں کی بار بار کی گئی سفارشات کو نظرانداز کرتی ہے، اور ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یونان کی سرحدوں پر انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے اور مہلک کشتی حادثات پیش آ رہے ہیں۔
ایم ایس ایف کی قومی کوآرڈینیٹر نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ قانون کے مسودے کے مطابق کسی این جی او کے ایک رکن کے خلاف فوجداری مقدمہ ہی وزارتِ امیگریشن کو یہ اختیار دے سکتا ہے کہ وہ اس تنظیم کو سرکاری رجسٹر سے خارج کر دے، حتیٰ کہ عدالتی فیصلے سے پہلے ہی۔
ان حالات میں ایم ایس ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ این جی او سے وابستگی کو سزا میں اضافے کی بنیاد کے طور پر ختم کیا جائے اور انسانی ہمدردی کے کام کو واضح طور پر تحفظ دیا جائے۔ بیان میں کہا گیا:“انسانی امداد جرم نہیں بلکہ ایک حق ہے، اور اسے مجرمانہ بنانا ایک دانستہ سیاسی فیصلہ ہے۔”
یہ خبر ایسے ہی دن سامنے آئی ہے جب جزیرہ لیسبوس کی ایک عدالت نے 24 این جی او کارکنوں کو بے گناہ قرار دیا، جن پر 2016 سے 2018 کے دوران ایجیئن سمندر میں تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی مدد اور ریسکیو کے الزام میں جاسوسی اور انسانی اسمگلنگ کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔
تازہ ترین واقعہ گزشتہ ہفتے پیش آیا، جب ترک حکام نے لیسبوس جانے والی ایک کشتی سے 37 افراد کو بچا لیا، جبکہ ایک شخص ہلاک اور سات تاحال لاپتہ ہیں۔