اسپین کی قومی کرکٹ ٹیم کی سچی کہانی پر مبنی فلم”لاروخا” شوٹنگ فروری میں ہوگی

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز)سان سیباستیان فلم فیسٹیول کے موقع پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ہدایت کار مارسل بیرینا کی نئی فلم ’’لا روخا‘‘ کی شوٹنگ آئندہ فروری میں شروع کی جائے گی۔ فلم کا اسکرپٹ خود مارسل بیرینا نے بیتو مارینی کے ساتھ مل کر تحریر کیا ہے۔

فلم کے نمایاں اداکاروں میں پاکو لیون، کیرولینا یوستے، ڈیوڈ ورداگئر اور اوسکر دے لا فوئنٹے شامل ہیں، جب کہ دیگر اداکاروں کے نام بھی جلد سامنے آئیں گے

Screenshot

معروف ہسپانوی ہدایت کار مارسل بارینا اپنی نئی فلم ’لا روخا‘ پر کام کر رہے ہیں، جو اسپین کی قومی کرکٹ ٹیم کی سچی کہانی پر مبنی ہوگی۔ یہ فلم ایک سماجی کامیڈی ہوگی جس میں ڈرامائی پہلو بھی شامل ہوں گے۔ ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی بھارتی یا پاکستانی نژاد ہیں اور انہوں نے 2022 اور 2023 کی یورپی چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی۔

فلم کا اسکرپٹ بارینا نے ایک بار پھر البرتو مارینی کے ساتھ مل کر تحریر کیا ہے، جن کے ساتھ وہ اپنی پچھلی فلم ’ایل 47‘ (2024) بھی بنا چکے ہیں۔ بیٹا فکشن اسپین کی سی ای او مرسیڈیز گامیرو نے جریدے ورائٹی کو بتایا کہ یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ایک خوش مزاج مگر سنجیدہ سماجی کامیڈی ہوگی، جس کا انداز کسی حد تک فل مونٹی جیسا ہوگا۔

مارسل بارینا اس سے قبل ’میڈیٹیرینیو‘ (2021) میں مہاجرت کے مسئلے اور ’ایل 47‘ میں اسپین کے دورِ انتقال کو موضوع بنا چکے ہیں۔ اب وہ اسی موضوع کو ایک نئے زاویے سے پیش کریں گے، کیونکہ فلم کی کہانی اس حقیقت کے گرد گھومتی ہے کہ اسپین کی قومی کرکٹ ٹیم میں زیادہ تر کھلاڑی پاکستانی یا بھارتی پس منظر رکھتے ہیں۔ یہ فلم اسپین میں کھیلوں پر بننے والی ان فلموں میں ایک نیا اضافہ ہوگی جو فٹ بال سے ہٹ کر دیگر کھیلوں کو موضوع بناتی ہیں، جیسے واٹر پولو پر مبنی ’42 سیکنڈز‘ (2022) یا کراٹے چیمپئن سانڈرا سانچیز کی مجوزہ بایوپک۔

’لا روخا‘ کی بنیاد ان مناظر پر ہے جنہوں نے ہسپانوی معاشرے کو چونکا دیا، جب قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اپنی بڑی کامیابیوں کے موقع پر ہسپانوی قومی ترانہ سنتے نظر آئے۔ 2022 اور 2023 میں یورپی مقابلوں میں کانسی کے تمغے جیتنے کے باوجود، کم مقبول کھیل سے وابستہ ہونے کے باعث انہیں نسلی بنیادوں پر توہین آمیز رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

بیٹا فکشن اسپین کے منیجنگ ڈائریکٹر پابلو نوگیرولیس کے مطابق، یہ فلم مزاح اور سنجیدگی کے امتزاج سے ان مہاجرین کی کہانی بیان کرتی ہے جو بہتر زندگی کی تلاش میں اسپین آتے ہیں، دن کے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں، سماجی میل جول میں مشکلات جھیلتے ہیں، مگر ایک ایسے کھیل کے ذریعے اپنے جذبے کا اظہار کرتے ہیں جس سے وہ محبت کرتے ہیں اور ایک ایسے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں جو ان کے لیے نیا ہوتا ہے۔

نوگیرولیس کا کہنا ہے کہ اس فلم کے ذریعے مارسل بارینا اور البرتو مارینی اسپین کی اس نئی حقیقت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں جس سے ہسپانوی معاشرہ آہستہ آہستہ آگاہ ہو رہا ہے۔ ان کے بقول، کرکٹ ٹیم کی یورپی کامیابیاں اسی سماجی تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں، جیسا کہ بعد میں فٹ بال کی یورپی چیمپئن شپ میں ان کھلاڑیوں کی کامیابی، جن کی جڑیں افریقہ سے ملتی ہیں، جیسے نیکو ولیمز اور لامین یامال۔

کہانی کیا ہے؟

’’لا روخا‘‘ ہسپانوی کرکٹ ٹیم کی ایک غیر معمولی مگر حقیقی کہانی پر مبنی ہے۔ کرکٹ ایسا کھیل ہے جو اسپین میں عموماً برطانوی طرزِ زندگی سے وابستہ طبقوں اور بھارت یا پاکستان جیسے ممالک سے آئے ہوئے تارکینِ وطن تک محدود رہا ہے، جہاں یہ کھیل بے حد مقبول ہے۔

جب سو برس بعد کرکٹ کو دوبارہ اولمپکس میں شامل کیا جاتا ہے تو ہسپانوی فیڈریشن قومی ٹیم کے کوچ سے ایسی ٹیم تیار کرنے کا مطالبہ کرتی ہے جو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کرکٹ وہ فاصلے مٹا سکتا ہے جو معاشرہ خود قائم کیے ہوئے ہے۔

گزشتہ دنوں قرطبہ ریسٹورنٹ کائیے قرطبہ پر فلم کی ٹیم نے پاکستانی نوجوانوان کا ایڈیشن کیا۔جس میں کئی مرد وخواتین نے حصہ لیا۔اس موقع پر فلم کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کی گئیں 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے