امریکہ گرین لینڈپر طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا،یورپ درست سمت میں نہیں جا رہا۔ٹرمپ

Screenshot

Screenshot

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے، تاہم اس مقصد کے لیے فوری مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آرکٹک کا یہ اسٹریٹجک خطہ امریکا کی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔

ٹرمپ نے کہا، “کوئی اور ملک یا ممالک کا اتحاد گرین لینڈ کا دفاع اتنے مؤثر انداز میں نہیں کر سکتا جتنا امریکا۔ دوسری عالمی جنگ میں ہم نے دیکھا کہ ڈنمارک صرف چھ گھنٹوں میں ہار گیا اور نہ خود کو بچا سکا نہ گرین لینڈ کو۔ ہم نے گرین لینڈ کو بچایا اور جنگ کے بعد واپس ڈنمارک کو دے دیا۔ یہ ہماری بڑی حماقت تھی۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ ایک ایسے مقام پر واقع ہے جو امریکا، روس اور چین کے درمیان غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور فی الحال “غیر محفوظ” ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ “مجھے طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، نہ میں چاہتا ہوں اور نہ ہی کروں گا۔ امریکا صرف ایک جگہ مانگ رہا ہے، جس کا نام گرین لینڈ ہے۔”

تاہم انہوں نے بالواسطہ دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام ہاں بھی کہہ سکتے ہیں اور نہیں بھی، “اگر ہاں کہیں گے تو ہم قدر کریں گے، اور اگر نہیں کہیں گے تو ہم اسے یاد رکھیں گے۔” ان کے مطابق گرین لینڈ کا حصول نیٹو کے لیے امریکا کی دہائیوں پر محیط خدمات کے مقابلے میں “ایک معمولی مطالبہ” ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ہمیشہ نیٹو کا بھرپور ساتھ دیا ہے، مگر انہیں یقین نہیں کہ دیگر اتحادی بھی اسی سطح پر کھڑے ہوں گے۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں یورپ پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ یورپ درست سمت میں نہیں جا رہا۔ انہوں نے یورپی ممالک کی معاشی پالیسیوں، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات اور غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کے طریقہ کار کو نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ نے خطاب کے آغاز میں اپنی ایک سالہ حکومتی کارکردگی کو “معجزہ” قرار دیا، سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید دہرائی اور کہا کہ امریکا عالمی معیشت کا “انجن” بن چکا ہے۔ انہوں نے درآمدی محصولات پر مبنی اپنی تجارتی پالیسی کا بھی دفاع کیا۔

ڈاووس میں ٹرمپ کی تقریر کے موقع پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ کانگریس سینٹر کا مرکزی ہال اور داخلی سیڑھیاں لوگوں سے کھچا کھچ بھری رہیں۔ اس موقع پر مشرقِ وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

ٹرمپ بدھ کے روز ڈاووس پہنچے، جہاں ان کی مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں طے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں یوکرین کی صورتحال، غزہ میں امن کے امکانات اور گرین لینڈ سے متعلق ان کے عزائم زیر بحث آئیں گے۔ وہ مقررہ وقت سے کئی گھنٹے تاخیر سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچے، کیونکہ ایئر فورس ون میں فنی خرابی کے باعث طیارے کو روانگی کے فوراً بعد میری لینڈ واپس لوٹنا پڑا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے