پراتو میں انسانی اسمگلنگ کا خونی راز،پاکستانی نے پاکستانی کا گلا دبا کر قتل کر دیا، لاش ہنگری میں پھینک دی گئی
اٹلی(میاں آفتاب احمد)ٹلی کے شہر پراتو میں سرگرم ایک بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے اندرونی تنازع نے ایک ہولناک قتل کی شکل اختیار کر لی۔ اطالوی پولیس اور پراسیکیوٹر کے مطابق ایک پاکستانی نژاد شخص نے اپنے ہی کاروباری ساتھی کو گلا دبا کر قتل کر دیا اور لاش ہنگری کی موٹر وے کے کنارے پھینک دی۔ مقتول اور ملزم دونوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو مشرقی یورپ سے آسٹریا، جرمنی اور اٹلی منتقل کرنے کے دھندے میں ملوث تھے۔
یہ قتل ستمبر 2023 میں کیا گیا تھا، مگر اب دو سال بعد اطالوی اور ہنگرین حکام کی مشترکہ تحقیقات کے نتیجے میں اس خونی راز سے پردہ اٹھا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت 27 سالہ اعجاز اشرف کے طور پر ہوئی ہے، جو پاکستانی نژاد تھا اور پراٹو میں مقیم تھا۔
اعجاز اشرف کو 6 ستمبر 2023 کو لاپتہ قرار دیا گیا تھا۔ اسی روز اس کی لاش ہنگری میں M7 موٹر وے کے قریب ایک سنسان مقام سے برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے پلاسٹک یا برقی تار سے گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق اعجاز اشرف اور اس کا ساتھی ایک مرسڈیز کار کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کوہنگری آسٹریا جرمنی اور پھر اٹلی منتقل کرتے تھے۔یہ نیٹ ورک ان افراد سے بھاری رقوم وصول کرتا تھا جو یورپ کے امیر ممالک تک پہنچنا چاہتے تھے۔
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ دونوں ایک بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ تھے، جو مشرقی یورپ کی سرحدوں سے شروع ہو کر اٹلی کے صنعتی شہروں تک پھیلا ہوا تھا۔
پراسیکیوٹر کے مطابق قتل کی بنیادی وجہ مالی تنازع تھا۔اعجاز اشرف کا موقف تھا کہ اسے اسمگلنگ سے ہونے والی کمائی میں پورا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ وہ نہ صرف شراکت ختم کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کار کو فروخت کرنے پر بھی زور دے رہا تھا جو دونوں کے نام پر تھی۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ:دونوں کے درمیان شدید جھگڑے ہو چکے تھے
ملزم نے واٹس ایپ پیغامات میں اعجاز کو قتل کی دھمکیاں دی تھیں اعجاز نے چند دوستوں کو بتایا تھا کہ اسے اپنی جان کو خطرہ ہےپولیس نے مقتول اور ملزم کے موبائل فون کا ڈیٹا حاصل کیا، جس نے کیس کی کڑیوں کو جوڑ دیا:
اعجاز کا فون آخری بار 5 ستمبر 2023 کو اٹلی میں ایک ہائی وے کے قریب آن ہوااس کے بعد اس کا فون ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا
دوسری طرف ملزم انہی دنوں پراتو سے سلووینیا اور پھر ہنگری گیا
6 ستمبر کی صبح وہ دوبارہ پراتو واپس پہنچ چکا تھامزید یہ کہ مقتول کے فون پر بار بار کی گئی کالز ’’زیرو سیکنڈ‘‘ پر کٹتی رہیں، جو اس بات کی علامت تھیں کہ فون بند یا تباہ کر دیا گیا تھا۔
تحقیقات میں ایک اہم گواہ نے بیان دیا کہ:’’ایک پاکستانی شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ میرے ایک قریبی رشتہ دار سے قتل ہو گیا ہے، لاش پھینک دی گئی ہے، اب میں کیا کروں؟‘‘
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بات دراصل قاتل نے بالواسطہ طور پر اپنے ہی جرم کے بارے میں کہی تھی۔
پراتو کے پراسیکیوٹر لوکا ٹیسکارولی نے ملزم کے خلاف:قتل لاش چھپانے اور غیر قانونی امیگریشن کے کاروبارکے الزامات عائد کر دیے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ نیٹ ورک صرف دو افراد تک محدود نہیں تھا۔
تحقیقات سے واضح ہو گیا ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ایک منظم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کی کہانی ہے، جو: غریب تارکینِ وطن کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا تھا انہیں خطرناک زمینی راستوں سے یورپ کے اندر منتقل کرتا تھا اور بھاری رقم وصول کر کے انہیں غیر انسانی حالات میں چھوڑ دیتا تھا
یہ کیس یورپ میں غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے تاریک پہلو کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں پیسے کی ہوس نے دو ساتھیوں کو دشمن بنا دیا اور بالآخر ایک نوجوان کی جان لے لی۔
اطالوی حکام کے مطابق اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی ہوتی تو یہ نیٹ ورک مزید بے گناہ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل سکتا تھا۔