امریکا سعودی سول جوہری معاہدے کی خبروں پر اسرائیل میں تشویش اور غصہ پایا جا رہا ہے، اسرائیلی اپوزیشن نے امریکا سعودی ڈیل کو اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک تباہی قرار دے دیا۔
بدھ کے روز نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد اسرائیل میں غصے اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ امریکا نے سعودی عرب کو سول جوہری پروگرام فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اہم پالیسیوں میں سے ایک کی منظوری دیتے ہوئے ریاض کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو اپنے ملک میں یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔
اسرائیلی سیاست دانوں نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ بعض کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایک اور ناکامی کی نشان دہی کرتا ہے۔
اس معاہدے پر نیتن یاہو کی خاموشی پر اسرائیلی اپوزیشن پھٹ پڑی ہے، سابق وزیر اعظم نفتالی بیننٹ نے کہا کہ مبینہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جوہری صلاحیتیں حاصل ہو جائیں گی، جب کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوئی شرط شامل نہیں۔
سابق وزیر دفاع اویگدور لائیبرمین نے کہا کہ سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام بالآخر جوہری ہتھیاروں پر منتج ہوگا اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیاروں کی ایک شدید دوڑ شروع کر دے گا۔ اسرائیل کو واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کرنا چاہیے کہ ہم اس معاہدے کی بھرپور مخالفت کریں گے۔
انھوں نے کہا امریکا سعودی عرب جوہری معاہدہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے، سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ لائبرمین نے کہا اسرائیلی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی مخالفت کرے اور امریکی کانگریس کو اسے مسترد کرنے پر آمادہ کرے، چاہے اس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
بائیں بازو کی جماعت دی ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے براہِ راست نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا موقع گنوا دیا بلکہ سعودی عرب کی جوہری صلاحیت کے حصول کی راہ بھی ہموار کر دی۔
انھوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے اسرائیل کو ایک تنہا اور عالمی سطح پر الگ تھلگ ریاست میں تبدیل کر دیا ہے، جو محض تماشائی بنی ہوئی ہے، جب کہ دوسرے ممالک ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو آنے والی کئی دہائیوں تک اسرائیل کی سلامتی پر اثر انداز ہوں گے۔
