الہاوریٖن اَیل گراندے میں ماں کے قتل کے بعد تین بہن بھائیوں کی دل دہلا دینے والی فریاد

Screenshot

Screenshot

مالاگا کے قصبے الہاوریٖن اَیل گراندے میں گھریلو تشدد کے ایک ہولناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا، جہاں ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی سابقہ شریکِ حیات کو اپنے ہی بچوں کے سامنے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا۔ واقعے کے فوراً بعد تینوں بچے گھر سے باہر نکل آئے اور چیخ چیخ کر مدد مانگتے رہے:

مقتولہ خاتون، 33 سالہ وکٹوریہ، برطانوی شہری تھیں اور کافی عرصے سے اپنے خاندان کے ساتھ کوستا دِل سول میں مقیم تھیں۔ الہاوریٖن میں ان کی ملاقات خوان انتونیو سے ہوئی، جو ان کے بچوں کے والد اور اب اس قتل کے مرکزی ملزم ہیں۔ دونوں ایک دہائی سے زائد عرصے تک ساتھ رہے اور ان کے تین بچے ہیں: ایک 11 سالہ بیٹا اور سات سالہ جڑواں بیٹیاں، جو آئندہ ماہ آٹھ برس کی ہوں گی۔ افسوسناک طور پر یہ بچیاں اپنی سالگرہ ماں کے بغیر منائیں گی اور غالب امکان ہے کہ باپ بھی جیل میں ہو گا۔

یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا اور رواں سال مالاگا میں گھریلو تشدد کے تحت ہونے والا پہلا قتل ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے اپنی سابقہ شریکِ حیات کو اس گھر میں نشانہ بنایا جہاں وہ بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ بچوں کی چیخ و پکار سن کر پڑوسیوں نے فوری طور پر ایمرجنسی سروس 112 کو اطلاع دی۔ جب امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی فورسز موقع پر پہنچیں تو وکٹوریہ زمین پر خون میں لت پت پڑی تھیں اور ان کے قریب ایک چاقو موجود تھا، مگر ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔

پولیس کے مطابق مقتولہ نے پہلے بھی اپنے سابقہ ساتھی کے خلاف شکایت درج کرا رکھی تھی اور ملزم کے خلاف حفاظتی حکم، یعنی دور رہنے کا عدالتی حکم بھی جاری تھا۔ دونوں فریقین گھریلو تشدد کے قومی نگرانی نظام (VioGen) میں بھی درج تھے، تاہم یہ اقدامات اس المناک انجام کو روکنے میں ناکام رہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جوڑا علیحدگی کے بعد مسائل کا شکار تھا، مگر صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے، اس کا اندازہ بہت کم لوگوں کو تھا۔ ایک پڑوسی نے بتایا کہ وکٹوریہ نے حال ہی میں ذکر کیا تھا کہ وہ اپنے سابقہ سسر کے ساتھ پہاڑوں کی سیر پر گئی تھیں، جس سے بعض کو لگا کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

قتل سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ملزم اپنے والد کی پولٹری شاپ پر موجود تھا۔ جب اس سے حال احوال پوچھا گیا تو اس نے صرف اتنا کہا: “میں ٹھیک نہیں ہوں۔” اس کے بعد وہ سیدھا اس گھر گیا جہاں یہ اندوہناک واردات پیش آئی۔

قصبے میں غم و غصے اور دکھ کی فضا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ الہاوریٖن پہلے ہی حالیہ مہینوں میں کئی سانحات کا سامنا کر چکا ہے اور یہ نیا واقعہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ایک مقامی شہری کا کہنا تھا: “پورا قصبہ ٹوٹ چکا ہے، ہم سنبھل ہی نہیں پا رہے۔”

ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ تینوں بچے اب ماں باپ دونوں سے محروم ہو چکے ہیں، اور دو خاندان ہمیشہ کے لیے بکھر گئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے