ریگولرائزیشن ان لوگوں کو حقوق دے گی جو پہلے ہی ہمارے ملک میں موجود ہیں”ایلما سائیز، وزیرِ امیگریشن
Screenshot
اسپین کی وزیرِ شمولیت، سماجی تحفظ اور مہاجرت ایلما سائیز نے کہا ہے کہ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو باقاعدہ بنانے کی مجوزہ قانون سازی ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے تقریباً پانچ لاکھ ایسے افراد مستفید ہوں گے جو پہلے ہی اسپین میں رہ رہے ہیں اور نظام میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
سرکاری نشریاتی ادارے RTVE کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر نے بتایا کہ حکومت اپریل کے آغاز میں درخواستوں کا عمل شروع کرنا چاہتی ہے تاکہ زیادہ تر کارروائی 30 جون تک مکمل ہو جائے۔
ایلما سائیز کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد “ان افراد کو تسلیم کرنا، ان کی عزتِ نفس بحال کرنا اور قانونی ضمانتیں دینا ہے جو یہاں رہتے اور کام کرتے ہیں”۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل سے ان خاندانوں کے زیرِ کفالت بچوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
وزیر کے مطابق جیسے ہی عوامی قانون سازی کی تجویز (ILP) باضابطہ طور پر منظور ہو گی، جو زیادہ سے زیادہ 15 دن میں ممکن ہے، حکومت خود پر سخت ڈیڈ لائنز عائد کرے گی تاکہ عمل شفاف، محفوظ اور مؤثر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ تیار کر کے اپریل کے اوائل میں درخواستوں کا آغاز کیا جائے گا، کیونکہ “ہر دن اہم ہے اور اس معاملے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکیوں سے متعلق یہ اصلاحات کافی عرصے سے فائلوں میں پڑی تھیں۔
حزبِ اختلاف، خصوصاً پاپولر پارٹی (PP)، کی جانب سے ممکنہ “دعوتی اثر” یعنی مزید مہاجرت کے خدشات پر ایلما سائیز نے سخت ردِعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پی پی کے اندرونی تضادات کا ایک اور مظاہرہ ہے، کیونکہ پارٹی نے خود کانگریس میں اس قانون سازی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں پی پی کی حکومتیں بھی اسی نوعیت کی ریگولرائزیشن کر چکی ہیں۔
ان کے بقول، “پی پی کے سامنے سوال واضح ہے: کیا وہ معاشرے، چرچ اور کاروباری تنظیموں کے ساتھ کھڑی ہے یا ووکس کے ساتھ؟”