پانچ ماہ میں 60 فیصد غیر قانونی تارکینِ وطن کو کاغذات ملنے کا امکان

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ (دوست نیوز)وزیراعظم پیدرو سانچیز کی حکومت نے پودیموس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اسپین میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کی غیر معمولی ریگولرائزیشن کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں رہنے والے تقریباً 60 فیصد افراد اپنی قانونی حیثیت حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام کے لیے کانگریس کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔

فُنکاس (Funcas) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2025 تک اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار افراد بغیر کاغذات کے مقیم تھے۔ نئی اسکیم کے تحت ان میں سے پانچ لاکھ سے زائد افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت آج وزرائے کونسل کے اجلاس میں اس کی منظوری دے گی۔

اس ریگولرائزیشن سے وہ افراد مستفید ہوں گے جو یہ ثابت کر سکیں کہ وہ 31 دسمبر 2025 سے قبل اسپین میں موجود تھے، ان کے خلاف کوئی سنگین فوجداری ریکارڈ نہیں اور وہ کم از کم پانچ ماہ سے ملک میں مقیم ہیں۔ قیام کے ثبوت کے طور پر میونسپل رجسٹریشن، ترسیلاتِ زر کی رسیدیں، ٹرانسپورٹ ٹکٹس یا طبی دستاویزات قابلِ قبول ہوں گی۔ درخواستیں 30 جون تک دی جا سکیں گی۔

درخواست جمع ہوتے ہی انتظامی بنیادوں پر واپسی یا ملک بدری کے تمام عمل، بشمول بغیر اجازت کام کرنے کے مقدمات، معطل ہو جائیں گے۔ درخواست منظور ہونے پر عارضی رہائشی اجازت نامہ جاری کیا جائے گا، جس کے تحت قانونی طور پر کام کرنے اور صحت کی سہولیات سمیت دیگر بنیادی خدمات تک رسائی ممکن ہوگی۔

فُنکاس کا کہنا ہے کہ اس کے اعداد و شمار امیگریشن قوانین میں 20 مئی کو نافذ ہونے والی ترامیم سے پہلے کے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ غیر قانونی افراد کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہو، تاہم اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ ادارے نے اسپین کی امیگریشن پالیسی میں طویل المدتی منصوبہ بندی کی کمی کی نشاندہی بھی کی ہے۔

یہ فیصلہ پودیموس کے اُن مطالبات کے مطابق ہے جو وہ ستمبر 2025 سے حکومت کے سامنے رکھتا آ رہا تھا، اور جس میں 2005 کے اُس ماڈل کی مثال دی جاتی رہی جس کے تحت سابق وزیراعظم خوسے لوئس رودریگیز زاپاتیرو کے دور میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو قانونی حیثیت دی گئی تھی۔

پودیموس کی سیاسی سیکریٹری آئرین مونتیرو نے میڈرڈ میں ایک جلسے کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام دراصل ایک عوامی مطالبے کا تسلسل ہے، جس کی حمایت میں سات لاکھ دستخطوں کے ساتھ ایک عوامی قانون سازی کی تجویز (ILP) طویل عرصے سے پارلیمان میں زیرِ التوا تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد موجودہ سماجی حقیقت کو قانونی تحفظ دینا اور بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو پیدرو سانچیز کی جانب سے اپنی پارلیمانی اکثریت کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ماضی میں اسی حکمتِ عملی کے تحت ای آر سی کو مالیاتی رعایتیں اور پی این وی کو باسک خطے میں اختیارات کی منتقلی دی گئی تھی، اور اب پوڈیموس کو ریگولرائزیشن کا کریڈٹ مل رہا ہے۔

دائیں بازو کی جماعتوں نے اس فیصلے پر سخت ردِعمل دیا ہے۔ پی پی کے رہنما فیخو کے مطابق یہ اقدام “مزید ہجرت کو دعوت دیتا ہے”، جبکہ ووکس کے سربراہ اباسکال نے اسے “غیر قانونی آمد میں تیزی” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب پوڈیموس کا مؤقف ہے کہ لاکھوں افراد کو غیر قانونی حیثیت میں رکھنا استحصال، نفرت اور سماجی اخراج کو بڑھاتا ہے، اور حقوق کی فراہمی ہی اس کا حل ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے