پانچ لاکھ تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن: حکومت اور پودیموس کے معاہدے کی چھ اہم شقیں
Screenshot
مدرید(دوست نیوز)ہسپانوی حکومت منگل کو کابینہ کے اجلاس میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کی منظوری دے گی۔ یہ اقدام حکومت اور پودیموس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا نتیجہ ہے، جس کا اعلان پیر کے روز یورپی پارلیمنٹ کی رکن اور سابق وزیر آئرینے مونتیرو نے کیا۔
یہ فرمان کانگریس سے توثیق کا محتاج نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے تحت موجودہ ضابطۂ امیگریشن میں ترمیم کی جا رہی ہے۔
معاہدے کے مطابق وہ تمام تارکینِ وطن اس ریگولرائزیشن سے فائدہ اٹھا سکیں گے جن کے خلاف کوئی سنگین مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو، جو 31 دسمبر 2025 تک اسپین میں موجود تھے اور کم از کم پانچ ماہ قیام ثابت کر سکیں۔ پودیموس کے مطابق مستفید ہونے والوں کی تعداد پانچ سے آٹھ لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔
پانچ ماہ کے قیام کا ثبوت مردم شماری کے سرٹیفکیٹ (پادرون) کے ذریعے دیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے علاوہ دیگر کئی دستاویزات بھی قابلِ قبول ہوں گی۔ ان میں طبی ملاقاتوں کی رپورٹس، سماجی خدمات میں حاضری کے سرٹیفکیٹ، کرائے کے معاہدے، رقوم کی ترسیل کے ثبوت، سفری ٹکٹ، یا بجلی، پانی اور فون کے بل شامل ہیں۔
کابینہ اس ریگولرائزیشن کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے منظور کرے گی، جس میں ضابطۂ امیگریشن میں ترمیم شامل ہوگی۔ اس طریقے سے نفاذ تیز ہو جاتا ہے، کیونکہ نہ تو پارلیمانی منظوری درکار ہے اور نہ ہی دیگر جماعتوں سے اتفاقِ رائے۔
فرمان کی منظوری کے بعد اسے سرکاری گزٹ میں شائع کیا جائے گا، جہاں نفاذ کی تاریخ درج ہوگی۔ پودیموس کے مطابق اس کا اطلاق فوری ہوگا۔ اہل تارکینِ وطن اپریل سے 30 جون 2026 تک درخواست دے سکیں گے۔
درخواست ایک فارم کے ذریعے جمع کرائی جائے گی، جس کے ساتھ متعلقہ دستاویزات منسلک ہوں گی۔ یہ درخواستیں سرکاری انتظامیہ کے تمام رجسٹریشن مراکز میں جمع کرائی جا سکیں گی تاکہ غیر ملکی دفاتر پر دباؤ کم ہو۔
اس اقدام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ درخواست جمع ہوتے ہی اس کے فوری اثرات مرتب ہوں گے۔ درخواست دینے سے واپسی یا ملک بدری کے انتظامی اقدامات معطل ہو جائیں گے، جبکہ درخواست منظور ہونے پر عارضی رہائشی اجازت نامہ ملے گا، جس سے قانونی طور پر کام کرنے اور صحت سمیت دیگر بنیادی حقوق تک رسائی ممکن ہوگی۔
منظوری کی صورت میں ایک سال کے لیے رہائشی اجازت دی جائے گی، جسے بعد ازاں ضابطۂ امیگریشن کے مطابق بڑھایا جا سکے گا۔ دو سال مکمل ہونے پر مستقل رہائش یا ورک پرمٹ کے حصول کی راہ ہموار ہو جائے گی۔