پی پی کا پنشن میں آضافہ کے خلاف ووٹ،پنشنرز کو یرغمال بنایا جا رہا ہے، پیدروسانچز کا پی پی پر الزام

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے ایک ویڈیو پیغام میں حزبِ اختلاف جماعت پاپولر پارٹی (پی پی) پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پنشن میں اضافے کے حق میں ووٹ نہ دے کر بزرگ شہریوں کو “یرغمال” بنا لیا ہے۔ سانچیز کا کہنا تھا کہ پی پی نے ایک بار پھر وہی روش اختیار کی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی اس ویڈیو میں وزیرِاعظم نے نوجوانوں کو بھی مخاطب کیا اور خبردار کیا کہ پی پی کے اس فیصلے کے نتیجے میں ان کے والدین یا دادا دادی کو سالانہ پانچ سو یورو سے زائد کا نقصان ہو سکتا ہے۔

یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب کانگریس میں حکومت کا پیش کردہ ’اومنی بس‘ رائل ڈکری قانون مسترد کر دیا گیا۔ اس ڈکری میں پنشن کی از سرِ نو قدر بندی، کمزور طبقات کے لیے بے دخلی پر پابندی میں توسیع، اور خود روزگار افراد کی سوشل سیکیورٹی فیس منجمد رکھنے جیسے اقدامات شامل تھے۔ جونٹس پارٹی نے پہلے ہی اس ڈکری کو گرانے کی دھمکی دے رکھی تھی اور آخرکار یہ مسترد ہو گیا۔

سانچیز نے کہا کہ پی پی ماضی میں بھی اسی طرح کے فیصلے کر چکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 میں پی پی نے پنشن کو مہنگائی کی شرح سے الگ کرتے ہوئے انہیں منجمد کر دیا تھا اور بعد کے برسوں میں بھی مہنگائی کے مطابق اضافے کی مخالفت کرتی رہی۔ ان کے مطابق گزشتہ سال بھی پی پی نے پنشن میں اضافے کی مخالفت کی تھی، تاہم عوامی دباؤ کے باعث اسے اپنا مؤقف بدلنا پڑا۔

وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے اپنی پوری زندگی اسپین کی تعمیر میں گزاری، ان کے لیے باعزت پنشن ایک بنیادی حق ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے باوجود پنشن میں اضافے کی جدوجہد جاری رکھے گی تاکہ بزرگ شہریوں کے وقار کا تحفظ کیا جا سکے۔

ویڈیو کے آخر میں سانچیز نے نوجوانوں سے کہا کہ اگرچہ یہ مسئلہ بظاہر انہیں براہِ راست متاثر نہیں کرتا، لیکن انہیں اپنے والدین اور بزرگوں کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے، کیونکہ اس فیصلے کا اثر ان کی آمدن پر براہِ راست پڑے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے