گھروں میں موبائل کے استعمال پر پابندیاں بڑھ گئیں، نوجوان 12 سال کی عمر میں فحش مواد دیکھنا شروع کر دیتے ہیں
Screenshot
بارسلونا کی ایجنسی برائے صحت عامہ (ASPB) کے تازہ سروے کے مطابق ثانوی سطح کے طلبہ میں گھروں کے اندر موبائل فون کے استعمال پر پابندیاں واضح طور پر بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر اس کے بعد جب اسکولوں میں موبائل پر پابندی عائد کی گئی۔
سروے کے مطابق 2021 میں دوسری جماعت (2n d’ESO) کی 37 فیصد طالبات اور 38.4 فیصد طلبہ کے موبائل کے استعمال پر گھروں میں پابندیاں تھیں، جو 2025 میں بڑھ کر بالترتیب 56.5 فیصد اور 56.6 فیصد ہو گئیں۔ چوتھی جماعت (4t d’ESO) میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا، جہاں پابندیاں طالبات میں 18.2 فیصد سے بڑھ کر 35.5 فیصد اور طلبہ میں 17 فیصد سے بڑھ کر 30.5 فیصد تک پہنچ گئیں۔
اس سروے میں پہلی بار فحش مواد تک رسائی کے بارے میں بھی سوالات شامل کیے گئے۔ نتائج کے مطابق بارسلونا کے نوجوان اوسطاً 12 سال کی عمر سے فحش مواد دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ طالبات کا کہنا ہے کہ وہ یہ مواد تجسس کے تحت دیکھتی ہیں، جبکہ طلبہ اسے جنسی خواہش سے جوڑتے ہیں۔
چوتھی جماعت کے طلبہ میں 80 فیصد لڑکوں نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی نہ کبھی فحش مواد دیکھ چکے ہیں، جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح تقریباً 50 فیصد ہے۔
سروے میں اسکولوں میں ہراسانی، جسے بُلنگ بھی کہا جاتا ہے، پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ اس میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2025 میں 11.8 فیصد طالبات اور 11.5 فیصد طلبہ نے بتایا کہ وہ بُلنگ کا شکار رہے، جبکہ چار سال قبل یہ شرح طالبات میں 5.8 فیصد اور طلبہ میں 5.4 فیصد تھی۔
اسی طرح ہراسانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ طالبات میں یہ شرح 2.6 فیصد سے بڑھ کر 4.9 فیصد اور طلبہ میں 5.1 فیصد سے بڑھ کر 10.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔