کریکٹر سرٹیفکیٹ کا حصول،پاکستانی قونصل خانے میں قطاریں،پولیس کو آنا پڑا

Screenshot

Screenshot

بارسلونا(دوست نیوز)اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے لیے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ غیر معمولی ریگولرائزیشن کے بعد بارسلونا میں قائم پاکستانی قونصل خانے میں رش بڑھ گیا ہے۔ ریگولرائزیشن کے لیے درکار کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کی غرض سے جمعرات کے روز ایونیو دے ساریّا پر واقع قونصل خانے کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ بعض افراد کے مطابق وہ اپنی باری کے انتظار میں رات دو بجے سے قطار میں کھڑے تھے۔

بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانہ دستاویزات کے لیے آنے والے سیکڑوں افراد سے بھر گیا,سیکڑوں پاکستانی شہری اپنے کاغذات مکمل کروانے کے لیے قونصل خانے پہنچ رہے ہیں، جس کے باعث طویل قطاریں اور شدید بدنظمی پیدا ہو گئی ہے۔

بدھ کے روز سے شروع ہونے والی بھیڑ اس حد تک بڑھ گئی کہ ایونگودا ساریا پر واقع قونصل خانے کے سامنے ٹریفک کا ایک لین بند کرنا پڑا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے بارسلونا کی میونسپل پولیس (گواردیااربانا) اور کاتالونیا کی علاقائی پولیس (موسوس دِ اسکوادرا) کے اہلکار تعینات کیے گئے، جو قونصل خانے میں داخلے کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آس پاس کی گلیاں اور چوک بھی لوگوں سے بھر گئے ہیں۔

قونصل خانے کے باہر موجود افراد میں سے کئی اپنے قومی شناختی دستاویزات یا پاکستانی پاسپورٹ کی تجدید کے لیے آئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں لوگ کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ یہ سرٹیفکیٹ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ درخواست گزار کے پاکستان میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں۔ انتظار میں کھڑے افراد کے مطابق یہ دستاویز قونصل خانے یا سفارت خانے سے جاری ہوتی ہے اور بعد ازاں پاکستان میں متعلقہ آبائی علاقے سے اس کی توثیق بھی ضروری ہوتی ہے۔

اگرچہ حکومتی اعلان کے مطابق ریگولرائزیشن کی درخواستیں زیادہ سے زیادہ تین ماہ بعد باقاعدہ طور پر وصول کی جائیں گی، تاہم اس کے باوجود بہت سے افراد نے پہلے ہی سے کاغذی کارروائی شروع کر دی ہے تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔

سرکاری فرمان کے مطابق یہ اقدام ان افراد کے لیے ہے جو 31 دسمبر 2025 سے قبل کم از کم پانچ ماہ اسپین میں مقیم رہے ہوں، نیز وہ پناہ کے متلاشی افراد بھی اس میں شامل ہیں جنہوں نے اسی تاریخ سے پہلے اپنی درخواستیں جمع کروائی تھیں۔ قیام کی شرط کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازمی ہے کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی حتمی مجرمانہ سزا موجود نہ ہو اور وہ عوامی نظم و ضبط کے لیے خطرہ نہ سمجھا جائے۔

حکام کے مطابق کسی فرد کے خلاف اگر محض پولیس ریکارڈ ہو، مثلاً غیر قانونی قیام کے باعث گرفتاری، تو اسے خود بخود ریگولرائزیشن میں رکاوٹ نہیں سمجھا جائے گا۔ ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا۔

یہ اسپین میں جمہوری دور کے دوران غیر معمولی ریگولرائزیشن کا ساتواں مرحلہ ہے۔ مرکزی حکومت کے اندازوں کے مطابق اس اقدام سے پانچ لاکھ سے زائد افراد مستفید ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض آزاد ادارے یہ تعداد آٹھ لاکھ سے بھی زیادہ بتا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2005 میں، وزیر اعظم خوسے لوئس رودریگز زاپاتیرو کے دور میں ہونے والی بڑی ریگولرائزیشن کے موقع پر بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے میں آئے تھے۔ اُس وقت بارسلونا میں پاکستانی قونصل خانہ موجود نہیں تھا اور میڈرڈ سے آنے والے چند سفارتی اہلکار ہزاروں درخواست گزاروں کے لیے ناکافی ثابت ہوئے تھے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے