اسپین نے برطانیہ کے ساتھ مل کر ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت سے انکار کر دیا
Screenshot
اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شرکت نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دعوتی کونسل اقوامِ متحدہ کے اختیارات کو کمزور کر سکتی ہے، اس لیے اسپین اس کا حصہ نہیں بنے گا۔
اس فیصلے سے اسپین اور امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے دفاعی اخراجات کم رکھنے پر اسپین کو “فری لوڈر” بھی قرار دیا تھا۔
اسپین کا یہ مؤقف برطانیہ کے مؤقف سے ہم آہنگ ہے، جس نے بھی روسی شمولیت پر تحفظات کے باعث بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانوی وزیرِ خارجہ ییویٹ کوپر نے اعلان کیا تھا کہ برطانیہ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اس بورڈ کے قیام کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ییویٹ کوپر نے کہا، “ہم آج دستخط کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ یہ ایک قانونی معاہدہ ہے جس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔” انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر پیوٹن کی شمولیت پر برطانیہ کو سنجیدہ تحفظات ہیں، خاص طور پر اس وقت جب یوکرین کے معاملے پر روس کی جانب سے امن کے کوئی واضح اشارے نظر نہیں آتے۔
بورڈ آف پیس کو ایک نئی عالمی تنظیم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا مقصد عالمی تنازعات کا حل بتایا گیا ہے۔ اس بورڈ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو تاحیات چیئرمین بنایا گیا ہے، جنہیں ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان مقرر کرنے اور ذیلی ادارے قائم یا ختم کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے بانی ایگزیکٹو بورڈ کے سات ارکان کے ناموں کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے، جن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم ٹونی بلیئر شامل ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ اپنے دائرہ کار سے کہیں آگے بڑھ رہا ہے اور اس کے اختیارات اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار کی جگہ لینے کی کوشش محسوس ہوتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیہ میں سے کسی نے بھی اب تک اس بورڈ میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔