اسپین میں تارکینِ وطن کی نئی قانونی حیثیت پر شدید بحث

Screenshot

Screenshot

اسپین کی حکومت نے غیر معمولی بنیادوں پر تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا ایک نیا عمل شروع کیا ہے، جس سے اندازاً پانچ لاکھ ایسے افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو اس وقت بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہیں۔ اس فیصلے نے سیاسی اور سماجی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان افراد کو رہائش اور کام کا قانونی حق دینا ہے جو برسوں سے اسپین میں رہ رہے ہیں مگر کسی وجہ سے اب تک باقاعدہ اجازت نامہ حاصل نہیں کر سکے۔ اس طرح وہ قانونی طور پر ملازمت کر سکیں گے، ٹیکس ادا کریں گے اور وہی حقوق حاصل کر سکیں گے جو قانونی طور پر مقیم افراد کو حاصل ہیں۔

تاہم اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے فیصلے کو شاہی فرمان کے ذریعے نافذ کرنا پارلیمانی اتفاقِ رائے کے بغیر درست نہیں، جبکہ کچھ حلقے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس سے دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں اسپین میں غیر قانونی ہجرت کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر اس قانون سے متعلق افواہیں اور غلط معلومات تیزی سے پھیلی ہیں، خاص طور پر اس بارے میں کہ یہ قانون کن حقوق کی اجازت دیتا ہے اور کن کی نہیں، اور اس کے معاشی و سماجی اثرات کیا ہوں گے۔ ان تمام سوالات کے جواب جاننے کے لیے یورونیوز نے امیگریشن قانون کے ماہر وکیل پاؤ وینتورا سے گفتگو کی، جن کا کہنا ہے کہ درخواستوں کی تعداد حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

قانونی حیثیت دینے کا عمل کیا ہے؟

ماہر وکیل کے مطابق اس عمل کے تحت درخواست دینے والے افراد کو رہائش اور کام کا اجازت نامہ ملے گا۔ اس قانون کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ درخواست منظور ہونے کے انتظار کے بغیر، صرف درخواست قبول ہوتے ہی عارضی اجازت نامہ فعال ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ درخواست گزار فوراً قانونی طور پر کام کر سکے گا اور سوشل سیکیورٹی میں رجسٹر ہو سکے گا۔

وینتورا کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ غیر قانونی افراد کو کام نہیں ملتا بلکہ یہ ہے کہ کمپنیاں چھ سے سات ماہ تک سرکاری فیصلے کا انتظار نہیں کرنا چاہتیں۔ اس نئی شق کے تحت لوگ پہلے دن سے ہی کام شروع کر سکیں گے، چاہے سرکاری کارروائی میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔

درخواستوں کی متوقع تعداد اور انتظامی دباؤ

وکیل کا اندازہ ہے کہ درخواستوں کی تعداد دس لاکھ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جس سے محکمۂ امیگریشن پر شدید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ اسی وجہ سے عارضی اجازت نامے کی شق رکھی گئی ہے تاکہ لوگ مہینوں تک بے روزگاری کے قانونی خلا میں نہ پھنسے رہیں۔

اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ عارضی اجازت نامہ پندرہ دن کے اندر جاری ہو جائے گا، وینتورا کے خیال میں انتظامی بوجھ کے باعث اس مدت پر عمل مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اسے ایک اہم اور مثبت تبدیلی قرار دیتے ہیں۔

اجازت نامے کی مدت اور تجدید

زیادہ تر درخواست گزاروں کو ایک سال کے لیے اجازت نامہ دیا جائے گا، جس کے دوران وہ مکمل طور پر کام اور ٹیکس ادا کر سکیں گے۔ نابالغ بچوں کے لیے یہ اجازت پانچ سال کی ہو گی، تاکہ انہیں بار بار تجدید کی پریشانی نہ ہو اور انہیں استحکام ملے۔

یہ اجازت مستقل رہائش نہیں بلکہ ایک ابتدائی قدم ہے، جس کے بعد شرائط پوری کرنے پر طویل المدتی اجازت نامہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک سال مکمل ہونے کے بعد تجدید کا مرحلہ خاصا اہم ہو گا، اور بعض کمزور طبقات کے لیے نرمی کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔

کیا انہیں ووٹ کا حق ملے گا؟

اس حوالے سے پھیلنے والی اطلاعات کو وکیل نے صاف طور پر غلط قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس قانون کے تحت کسی کو بھی عام یا صوبائی انتخابات میں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہو گا۔ ووٹ کا حق صرف ہسپانوی شہریت کے بعد ہی ملتا ہے، جبکہ بلدیاتی انتخابات میں بھی صرف یورپی یونین یا مخصوص معاہدوں والے ممالک کے شہری ووٹ دے سکتے ہیں۔

جرائم پیشہ افراد کے بارے میں کیا ہوگا؟

حکومت اپریل سے جون 2026 کے درمیان درخواستوں کا عمل شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہی افراد اہل ہوں گے جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے اسپین میں موجود ہوں اور کم از کم پانچ ماہ کی رہائش ثابت کر سکیں، بشرطیکہ ان کے خلاف سنگین فوجداری ریکارڈ نہ ہو۔

درخواست قبول ہوتے ہی فرد قانونی طور پر کام شروع کر سکے گا اور اس مدت کو قانونی قیام میں شمار کیا جائے گا۔

ٹیکس اور سماجی فوائد

عارضی اجازت کے ساتھ ہی افراد سوشل سیکیورٹی میں حصہ ڈالیں گے اور انکم ٹیکس ادا کریں گے۔ وکیل کے مطابق اس کا سب سے بڑا فائدہ ریاست کو ہو گا، کیونکہ اسپین اور یورپ میں تقریباً ہر شعبے میں افرادی قوت کی کمی ہے۔ اس سے ملازمتوں، ٹیکس آمدن اور پنشن فنڈز میں فوری اضافہ متوقع ہے۔

خاندانی ملاپ

خاندانی ملاپ خودکار نہیں ہو گا۔ قانون کے مطابق کم از کم ایک سال کی قانونی رہائش کے بعد ہی اس عمل کا آغاز کیا جا سکتا ہے، اور جن اہلِ خانہ کو بلایا جائے وہ اسپین سے باہر مقیم ہوں۔ تاہم عملی طور پر وہ خاندان جو پہلے ہی ساتھ رہ رہے ہیں، شرائط پوری کرنے پر اکٹھے قانونی حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔

پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے

یہ پہلا موقع نہیں کہ اسپین نے اجتماعی طور پر تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دی ہو۔ جمہوری دور میں اب تک چھ مرتبہ ایسے اقدامات کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے دس لاکھ سے زائد افراد کو نظام کا حصہ بنایا گیا۔ فیلپے گونزالیز، خوسے ماریا ازنار اور خوسے لوئیس رودریگز زاپاتیرو کی حکومتوں نے بھی یہی طریقہ اپنایا تھا۔ بیس سال بعد ایک بار پھر اسپین کی حکومت اسی راستے پر گامزن ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے