اسپین میں مہاجرین کی آمد کم مگر مہاجرین کے لیے خطرات بڑھ گئے، ACNUR کا انتباہ
Screenshot
میڈرڈ(دوست نیوز)اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (ACNUR) نے خبردار کیا ہے کہ اسپین میں مہاجرین کی آمد اور پناہ کی درخواستوں میں کمی کے باوجود ان کے لیے خطرات اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔
ACNUR کے مطابق 2025 میں اسپین میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے مہاجرین کی تعداد 36 ہزار 775 رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد کم ہے، تاہم یہ کمی زیادہ خطرناک راستوں، سخت رکاوٹوں اور بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاس بھی ہو سکتی ہے۔
ادارے نے خاص طور پر کینری آئی لینڈز کی سمندری راہ کو بدستور خطرناک قرار دیا، جہاں سفر طویل اور جان لیوا ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح جزائرِ بالیاریس میں بھی خواتین اور بچوں سمیت ایسے افراد کی آمد دیکھی گئی جنہیں فوری بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔
2025 میں اسپین میں ایک لاکھ 44 ہزار سے زائد افراد نے پناہ کی درخواست دی، جو گزشتہ سال سے 14 فیصد کم ہے۔ ACNUR کے مطابق اس کی ایک وجہ نئی امیگریشن پالیسی ہے، جو بعض افراد کو قانونی حیثیت کے متبادل راستے فراہم کرتی ہے۔
اسی سال اسپین نے 75 ہزار سے زائد افراد کو کسی نہ کسی شکل میں تحفظ فراہم کیا، جن میں بڑی تعداد وینزویلا کے شہریوں کی تھی۔ پناہ کی درخواست دینے والوں میں 41 فیصد خواتین اور بچیاں شامل تھیں۔
ACNUR نے زور دیا کہ اگرچہ بعض راستوں پر آمد کم ہوئی ہے، مگر تحفظ کی ضرورت اور خطرات بدستور موجود ہیں۔ ادارے نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ محفوظ اور قانونی راستے، خاندانی ملاپ اور دوبارہ آبادکاری جیسے پائیدار حل کو فروغ دیں۔