بریون (گالیشیا) میں اندوہناک واقعہ: والد کار میں دو سالہ معصوم بیٹی کو بھول گیا، دم توڑنے سے ہلاکت
Screenshot
ایک انتہائی دلدوز اور المناک حادثے میں ۲۹ ماہ کی ایک معصوم بچی کار کے اندر شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ یہ اندوہناک واقعہ اسپین کے علاقے گالیشیا کے شہر بریون (آ کورونیا) میں پیش آیا۔ ہر روز کی طرح ایک باپ اپنی بیٹی کو ڈے کیئر سنٹر چھوڑنے نکلا تھا، لیکن ایک ہنگامی فون کال اور روزمرہ کے معمولات میں معمولی تبدیلی نے ہنستی کھیلتی زندگی کو ماتم میں بدل دیا۔
بدھ کی صبح، بچی کا والد اپنے بڑے بیٹے اور چھوٹی بیٹی کو اسکول چھوڑنے کے لیے گھر سے نکلا۔ بڑے بیٹے کا اسکول گھر سے محض ایک کلومیٹر اور بچی کا ڈے کیئر سنٹر وہاں سے صرف ۴۰۰ میٹر دوری پر تھا۔
بلدیہ بریون کے میئر اور متاثرہ خاندان کے قریبی دوست پابلو لاگو نے بتایا”بڑے بیٹے کو اسکول چھوڑنے کے فوراً بعد والد کو اپنے مکینیکل ورکشاپ سے ایک ہنگامی فون کال آئی۔ ورکشاپ میں پیدا ہونے والے اچانک مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ شدید ذہنی دباؤ میں سیدھا وہاں پہنچ گیا اور گاڑی ایک ایسی جگہ پارک کر دی جہاں لوگوں کی آمدورفت بہت کم تھی۔”گاڑی کے پچھلے حصے کے شیشے گہرے کالے (Tinted) تھے، جس کی وجہ سے باہر سے یہ دیکھنا ناممکن تھا کہ اندر معصوم بچی موجود ہے۔ والد اس بات سے بالکل بے خبر کہ وہ بیٹی کو ڈے کیئر چھوڑنا بھول چکا ہے، اپنے کام میں مصروف ہو گیا، جبکہ اس کے ذہن میں یہی تھا کہ وہ روزانہ کی طرح دونوں بچوں کو چھوڑ آیا ہے۔
یہ ہولناک بھول اس وقت تک سامنے نہ آ سکی جب تک دوپہر کے تین بجے بچی کی ماں اسے لینے ڈے کیئر نہیں پہنچ گئی۔ وہاں عملے نے بتایا کہ بچی آج آئی ہی نہیں تھی۔ بدقسمتی سے، اس دن ڈے کیئر کی ڈائریکٹر کی طبیعت ناساز تھی اور وہ چھٹی پر تھیں، جس کی وجہ سے معمول کا نظام متاثر ہوا اور خاندان کو بچی کی غیر حاضری کی اطلاع بروقت نہ مل سکی۔
جب ہنگامی امدادی ٹیمیں گاڑی تک پہنچیں تو بچی کی سانسیں چل رہی تھیں، لیکن شدید گرمی (ہیٹ اسٹروک) کے باعث اس کا جسم جواب دے چکا تھا۔ ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود اسے بچایا نہ جا سکا اور وہ دل کا دورہ پڑنے سے چل بسی۔ علاقے میں کئی روز کے خراب موسم کے بعد اس دن درجہ حرارت اچانک ۳۰ ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا تھا، جس نے بند کار کو ایک تندور میں تبدیل کر دیا۔ واقعے کے بعد والد کی ورکشاپ کے باہر "وفات کی وجہ سے بند ہے”کا بورڈ آویزاں کر دیا گیا ہے۔
ماہرین اور سماجی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ذہنی دباؤ اور اچانک معمول بدلنے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں جسے میڈیکل کی زبان میں "فارگوٹن بیبی سنڈروم” بھی کہا جاتا ہے۔ اطالیہ (اٹلی) جیسے ممالک میں ۲۰۱۹ سے قانوناً ایسی چائلڈ سیٹس (Child Seats) لازمی قرار دی جا چکی ہیں جو بچے کے گاڑی میں رہ جانے پر موبائل فون پر الرٹ بھیجتی ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ گاڑی پارک کرتے وقت پچھلی سیٹ پر اپنا پرس یا کوئی ضروری سامان رکھیں تاکہ گاڑی سے اترتے وقت پچھلی سیٹ پر نظر لازمی پڑے۔
بریون کے میئر نے دکھی لہجے میں کہا”ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں گھڑی کی سوئیاں ہمارے پیچھے لگی ہیں، اور اس شدید دباؤ میں ہم سب سے اہم چیزوں کو بھول جاتے ہیں۔ یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔”
مقامی حکومت نے واقعے پر دو روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور معصوم بچی کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ گارڈیا سول (پولیس) نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم پورا علاقہ اس وقت صدمے کی کیفیت میں ہے اور متاثرہ خاندان کو نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔