Screenshot
اسپین کی حکومت نے اٹلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسپین سے آنے والے مسافروں پر عائد کیے گئے کنٹرولز فوری طور پر ختم کرے، بصورت دیگر اسپین بھی متناسب جوابی اقدامات کرے گا۔ وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی حکومت نے اٹلی کے اس اقدام کو “غیر منصفانہ”، “یورپی یونین کے مفادات کے خلاف” اور “ہسپانوی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک” قرار دیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، اسپین نے اٹلی کو اتوار 9 اگست تک مہلت دی ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے اور ہسپانوی شہریوں کے ساتھ دیگر یورپی شہریوں جیسا سلوک کرے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسپین اپنے شہریوں کے مفادات اور وقار کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اٹلی کی حکومت نے سیوتا میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے تحت آزادانہ آمدورفت کو عارضی طور پر محدود کرتے ہوئے ہوائی اور بحری سفر کرنے والے غیر یورپی شہریوں پر سرحدی کنٹرول نافذ کر دیے تھے۔ اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کے مطابق یہ فیصلہ قومی سلامتی کے تحفظ اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے کیا گیا۔
اسپین کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے ہزاروں مسافروں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے اور خاص طور پر گرمیوں کے سیزن میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ سیوتا میں داخل ہونے والے تقریباً 72 ہزار مہاجرین شینگن زون میں آزادانہ داخلے کے اہل نہیں تھے اور ان میں سے زیادہ تر کو واپس مراکش بھیج دیا گیا ہے۔
اسپین نے مزید کہا کہ اٹلی خود گزشتہ برسوں میں غیر قانونی سرحدی عبور کے سب سے زیادہ کیسز والا ملک رہا ہے اور اس کے باوجود اسپین نے کبھی اٹلی کے خلاف ایسے اقدامات نہیں کیے، بلکہ ہمیشہ یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں اسپین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ یورپی حکمت عملی پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ یورپی سرحدوں کو مضبوط بنایا جائے اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی تیز کی جائے۔
اسپین نے امید ظاہر کی ہے کہ یورپی ممالک باہمی تعاون اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے اور اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔
