راجہ شعیب ستی۔۔ ایک عہد ساز شخصیت ۔انمول ہیرا۔۔تحریر( نصراللہ چوھدری)

IMG_4274

بارسلونا سپین میں آئے ہوئے اگرچہ بہت زیادہ عرصہ نہیں گزراہ لیکن اس بات میں کوئئ شک نہیں کہ یہ شہر اور اس کے مکیں زندہ دلان لاھور سے کم نہیں، خوبصورت نظاروں سے بھرپور یہ شہر اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں اور اپنی زندگی کی حسین  یادیں لے کر جاتے ہیں۔ضلع گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے لوگوں کی بڑی تعداد یہاں مقیم ھے۔سپین کا نام تو ھم نے ہاکی کے حوالے سے ہی سنا تھا اور پاکستان اور اسپین کا میچ شوق سے دیکھتے تھے بعدازاں سپین فٹ بال کی دنیا میں بہت اوپر تک گیا۔

یہاں بارسلونا آنے کے بعدجہاں بہت سے اچھے باکردار اور مخلص دوست ملےوہاں بہت سے رنگ باز غریبوں کا مال کھانے والے بہرؤئپیے اور محافل میں تصاویر بنو ا کر اپنے آپ کو غریبوں کا مسیحا ثابت کرنے والے جعل ساز بھی دیکھے۔ 

اسی دوران ایک نام جو اکثر محافل میں حقیقی عوام کا مسیحا ہونے کا سنا اور یہ نام ھر جگہ گونجتا تھا وہ راجہ شعیب ستی کا تھا

 ایک دو دفعہ ان سے ملاقات بھی ہوئی اچھے انسان محسوس ہوئے لیکن جس قدر ان کا نام سنا تھا ویسے محسوس نہ کر سکا۔ ایک بھاری جسم ،چھوٹے قد والا نوجوان اس کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا یہی راجہ شعیب ستی ہے۔

کچھ دن بعد ان کی اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ انگلینڈ میں بنائئ گی تصاویر دیکھی  تو پھر  ایک دفعہ شک میں مبتلا ہو گیا کہ اس قدر بڑا نام اور قد اور سخصیت جن کا نام سنتے کسی بڑے عمر کے انسان کا خاکہ نظر آتا ھے ۔انکی شہرت اور خدمات کے حوالے سے۔ اور بہت چھوٹی عمر کی 6 بچیوں اور ایک بچے کا والد۔شائد خدمت خلق میں یہ شادی کا فریضہ بھی دیر بعد انجام دیا  شائد اسے اپنے بچوں کو ٹائم دینے کا وقت بھی دیر سے ملا ہوگا

 بچے انتہائی مانوس خوش۔ کبھی پارکوں اور کبھی کشتی میں سوار نظر آئے لیکن کیا پتہ تھا اس کشتی کا ناخدا کچھ عرصہ کا مہمان ہے ۔۔

 اور پھر اچانک فیس بک پر انکی طبعیت کے ناساز ہونے کی  خبر دیکھی تو مزید پریشانی ہوئی اللہ تعالی اس بندے کو صحت عطا فرما اس قدر خوبصورت اور ھمدرد انسان کو۔اور پھر ان کی صحت  کے لیے دعاؤں کی التجا کرنے والوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔

اور پھر ایک دن فیس بک پر ہر طرف ایک کہرام مچ گیا۔ کہ ستی صاحب اس دنیا فانی سے کوچ کر گے ہیں ۔

 اس مادی دور میں  جہاں ہر شخص دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے اوربار سلونا میں جہاں کوئی کسی کے ساتھ ایک قدم مطلب کے بغیر چلنے کو تیار نہیں اور جہاں کے  نودولتیے کسی کو ایک یورو دینے کو تیار نہیں وھاں  تو ایسے فرشتہ صفت انسان کی ضرورت ھے جو چراغ لے کر بھی تلاش کرنے سے بھی نہیں ملے گااور پھر میں نے دیکھا۔ کہ بغیر کسی امتیاز کے ہر انکھ اشکبار نظر آئی۔ان سے لوگوں کی محبت غائبانہ نماز جنازہ کئی مقامات پر پڑھا گیا

 حقیقت کا پتہ چلا تو میری نظروں میں یہ جھوٹے قد والا نگینہ خوبرو  کردار کا بہت بڑا عظیم انسان  نکلا ۔

ہر ایک کی بے لوث مدد کرنے والا یہ ھیرا واقعی ھی انمول تھا  90 کی دھائی میں راولپنڈی سے حصول معاش کے لیے آنے والے راجہ شعیب ستی نے زندگی کے بہت سے نشیب وفراز دیکھے۔ پاکستان سے یہاں آنے والے لوگوں کی بے تحاشہ مدد کی۔اس نوجوان کی سب سے بڑی خوبی  یہ تھی کہ اس کی ذات سے کسی انسان کو آج تک  نقصان نہیں  پہنجا۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ستی نے اس کے پیسے کھائے ہوں یا کسی سے بے وفائی کی ہو ۔

پاکستانیوں کا بارسلونا میں میزبان جب لندن شفٹ ہوا تو وھاں بھی جاکر ہر ایک کا اور خاص طور پر بارسلونا والوں کا میزبان بن گیا

۔ شوکت چوھان جب چند دن پہلے لندن گیا  جس دوست کے پاس گیا اس نے بتائے بغیرستی کو ویڈیو کال ملا دی جس پر پہلی بات ستی نے کہی تم میرے پاس آؤ گے یا میں آؤں۔یہاں بارسلونا یا لندن ہر ایک سے والہانہ  محبت کرنے والا ستی ہی ہو سکتا ہے۔وھاں بھی اس کے دسترخوان پر ہر وقت 15 سے زائد لوگ موجود ہوتے تھے۔

بارسلونا میں جس کا کوئی نہیں ہوتا تھا اس کا سہارا ستی بنتا تھا  بے گوروکفن پاکستانیوں کو اوران کی نعشوں کو غسل دینے سے لے کر تدفین تک کا کام یہ خود کرتا تھا ۔اس دور میں ایسے لوگ آپ کو بہت کم ملیں گے۔

جو انسان اور انسانیت کا سوچتے ہیں آج جو کام نوید وڑائچ کر رہاہے یہ بھی اسی کا لگایا پودا ہے۔وہ جو کہا جاتا ہے نا کہ

کرو مہربانی تم اہل زمیں پر

خدا مہرباں ہو گا عرشِ بریں پر 

اس بات کی حقیقی تصویر راجہ شعیب ستی تھا آج پہلی دفعہ سارے بارسلونا کو اداس دیکھا ،ہر شخص اس کا دوست ہے ہر ایک کی آنکھ اس کے لیے اشکبار ھے۔

 ستی جب کرونا کی موذی مرض میں مبتلا ہوا تو اس کا جگر طاھر نوید سندھو جو اس کےلیے لندن منتقل ہوا تھا وہ بغیر اپنی پروا کیے اسے ہسپتال لے کر پہنجا۔ستی کی بے وقت موت پر اسی لیے اس کے دوست  نے کہا کہ آج میں دوسری دفعہ یتیم ہوا ہوں

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ستی کا افسوس میں اپنے آپ سے کروں کہ کیوں۔ اس نگینے کو اتنی دیر سے ملا۔ یا اس کے دوستوں جانی،آفتاب اشرف،امجد ، راجہ سونی ،چوھدری اقبال ۔نوید اندلسی، ڈاکڑ عرفان۔طاھر رفیع ۔ غلام سرور ۔ارشد نزیر ساحل  ۔جمی شیخ۔ظفر اقبال حسن۔بھائی ناصر ۔کس کس سے کروں سارے کا سارا شہر ہی اس سے محبت کرنے کا دعوی کرتا نظرآتاہے۔اور اس کی محبت میں گرفتار ھے ۔

یہ بھی حقیت ہے کہ شعیب ستی زندہ ہے ہم سب  کے دلوں میں  ہماری  محبتوں میں خلوص میں چاہتوں میں اور ہماری دعاؤں میں۔۔

اور ایسے لوگ مدتوں تک بھی بھلائے نہیں جاسکتے۔۔

    تمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں

     بہت چراغ جلائیں گے روشنی کے لیے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے