Screenshot
شکیرا نے اسپین میں لاطینی تارکینِ وطن کے ساتھ برتاؤ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین نے لاطینی ہجرت کو قبول کیا اور اسے گلے لگایا ہے۔ شکیرا نے یہ بیان میڈرڈ میں اپنی تاریخی 12 کنسرٹس پر مشتمل رہائش شروع ہونے سے 18 روز قبل دیا۔
شکیرا نے اخبار El País کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا، ’’لاطینی ہجرت کو برداشت نہیں کیا جاتا بلکہ اسے منایا جاتا ہے۔ اسپین نے اسے گلے لگایا ہے، اور اس محبت نے اسپین کو زیادہ جوان، متحرک اور تخلیقی بنایا ہے۔‘‘
کولمبین گلوکارہ 18 ستمبر سے میڈرڈ میں اپنی ’Las Mujeres Ya No Lloran‘ ٹور کے تحت 12 کنسرٹس کریں گی۔ ان کنسرٹس کے لیے اب تک 6 لاکھ سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔ ان تقریبات کے لیے ویلاورڈے میں 55 ہزار افراد کی گنجائش والا خصوصی مقام تیار کیا جا رہا ہے۔
شکیرا نے اسپین اور لاطینی امریکا کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ’’ہسپانیت‘‘ کے روایتی تصور کو وسیع کرنے کی تجویز بھی دی۔ ان کے مطابق صرف Hispanidad کی بجائے Latinidad یعنی لاطینی ثقافت کے وسیع تر تصور پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی ہسپانیت کا تصور برازیل جیسے خطوں اور پرتگالی، اطالوی اور فرانسیسی جیسی زبانوں کو شامل نہیں کرتا۔
شکیرا کے مطابق افریقہ، امریکا اور جنوبی یورپ کے درمیان گزشتہ پانچ صدیوں میں ہونے والا امتزاج ہی اس ثقافتی ورثے کی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاطینی موسیقی اور فنون کی عالمی مقبولیت محض وقتی فیشن نہیں بلکہ دنیا لاطینی ثقافت میں موجود ان اقدار کو تلاش کر رہی ہے جن کی اسے ضرورت ہے۔
گلوکارہ نے لاطینی معاشرے کی باہمی محبت، میل جول اور انسانی تعلق کو ڈیجیٹل دور میں بڑھتی تنہائی کا مقابلہ کرنے کا ذریعہ بھی قرار دیا۔
میڈرڈ میں شکیرا کا منصوبہ صرف موسیقی تک محدود نہیں ہوگا۔ ویلاورڈے میں تقریباً 30 ہیکٹر پر مشتمل ایک ’’شہر‘‘ تیار کیا جا رہا ہے، جہاں 100 سے زیادہ فنکار ادب، رقص، کھانے، فیشن اور سنیما سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
شکیرا چاہتی ہیں کہ ہر روز کی سرگرمی کا اختتام ایک بڑے کثیرالثقافتی کارنیوال سے ہو، جس میں افریقہ، امریکا اور یورپ کی ثقافتوں کا امتزاج پیش کیا جائے۔
