بارسلونا(دوست نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی اسپین کے صدر چوہدری اشتیاق حسین کی جانب سے پیپلز پارٹی پاکستان کے سینئر رہنما سابق وفاقی وزیر،سابق چئیرمین سینٹ،سینٹر میاں رضا ربانی کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔معروف بزنس مین چوہدری محمد نواز بھروانہ نے پرتکلف عشائیہ دیا

تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی اسپین،پاکستان مسلم لیگ ن اسپین،اور دیگر مکتب فکر کے افراد نے شرکت کی
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کی سعادت میاں عبدالروف آرائیں نے حاصل کی جبکہ نظامت کے فرائض پروفیسر طاہر عظیم نے سرانجام دئیے

تقریب کی صدارت چوہدری اشتیاق حسین نے کی جبکہ مہمان خصوصی میاں رضا ربانی تھے۔
تقریب سے میاں رضا ربانی ، محمد اقبال چوہدری،چوہدری اشتیاق حسین،پروفیسر طاہر عظیم نے مختصر خیالات کا اظہار کیا۔پاکستان اور اسپین کی سیاست کے بنیادی ڈھانچہ پر گفتگو کی گئی

میاں رضا ربانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک پر ایک ہائبرڈ نظام مسلط ہے “اور اس ہائبرڈ نظام کے اندر، میں سمجھتا ہوں کہ جتنی سویلین اسپیس محدود ہوئی ہے، شاید ہم نے پہلے کبھی اس حد تک نہیں دیکھی۔ سویلین اسپیس، چاہے وہ پارلیمان کی بالادستی ہو، چاہے کارپوریشنز اور خودمختار اداروں کے سربراہان کے معاملات ہوں، یا ملک کی مجموعی پالیسی کا تعلق ہو۔ ضروری نہیں کہ اس کا تعلق دفاع سے ہی ہو، لیکن اس کے باوجود سویلین اسپیس میں نمایاں کمی آئی ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اس میں کسی پر تنقید مقصود نہیں، لیکن اگر ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے تو پھر کسی مثبت راستے کی طرف بڑھنا ممکن نہیں ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے اندر 1973ء کا آئین، جو ایک متفقہ آئین تھا، جو صوبوں کی رضامندی سے بنا اور اس وقت پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی بھی اس میں رضامندی شامل تھی، کیا اس میں دی گئی پارلیمانی جمہوریت ہی ہماری منزل ہے یا نہیں؟ یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔

پاکستان کے عوام نے، چاہے وہ ایوب خان کے خلاف جدوجہد ہو، یحییٰ خان کے خلاف جدوجہد ہو یا مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد، ہمیشہ پارلیمان، پارلیمانی جمہوریت اور وفاقیت کے لیے اپنی جدوجہد کو وقف رکھا ہے۔”
انہوں نے کہا“موجودہ صوبوں کی وجہ سے جو این ایف سی ایوارڈ ہے، وہ درست نہیں ہے اور قومی ملکیت میں صوبوں کا جو حصہ ہے، وہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن اگر آپ مزید صوبوں کی بات کر رہے ہیں تو لازمی بات ہے کہ اخراجات ڈبل، ٹرپل یا، اگر آپ بتیس صوبوں کی بات کر رہے ہیں، تو بتیس گنا تک بڑھ جائیں گے۔ کیونکہ بتیس اسمبلیاں ہوں گی، بتیس انتظامیہ ہوں گی اور اس کے نتیجے میں اخراجات میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوگا۔

درحقیقت، میں سمجھتا ہوں کہ گیم پلان یہ ہے کہ ملک کی قوت اور ملک کے عوام کو مختلف ٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا جائے، اور پھر وہی پرانی برطانوی پالیسی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ جاری رکھی جائے۔لیکن جہاں تک صوبوں کا تعلق ہے، ابھی ایک ہفتہ پہلے صوبہ سندھ کی اسمبلی نے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔”
کسی کی ذاتی خواہش پر صوبے تقسیم نہیں ہوسکتے ،جس ملک کے عوام اپنے حقوق کی جدوجہد میں آگے بڑھ رہے ہوں ان کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

تقریب کے اختتام پر چوہدری محمد نواز بھروانہ کے مرحوم بہنوئی اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن اسپین کے صدر چوہدری سجاد انور کی والدہ مرحومہ کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی اور بلندی درجات کی دعا کی گئی

معروف بزنس مین محمد نواز بھروانہ،راجہ اضرار،،محمد اقبال چوہدری،چوہدری عامر نواز بھدر،قاضی احسان الحق ،چوہدری شرجیل،محمد عارف،،میاں عبدالروف آرائیں،شیر خان ،چوہدری عمران اختر چھوکر کلاں، دانش افروز،اعجاز باری،راجہ بشارت علی،حاجی اسد حسین ،ڈاکٹر قمرفاروق،رضوان کاظمی اور دیگر احباب نے شرکت کی۔
