Screenshot
سیوتا میں مہاجرت کے بحران اور اسپین کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے تازہ پیش رفت جاری ہے۔ وزیراعظم پیدرو سانچیز نے مراکش کے ساتھ مثبت اور تعاون پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرت کے بہاؤ سے نمٹنے کے لیے مراکش کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
سانچیز نے دعویٰ کیا کہ اسپین کے حکام کو دستیاب اطلاعات میں سیوتا میں مہاجرین کی ممکنہ آمد میں اضافے کا اشارہ ضرور ملا تھا، تاہم 30 اور 31 جولائی کو ہونے والی بڑے پیمانے کی آمد کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔
ادھر سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کی وفاقی قیادت نے پاپولر پارٹی (PP) پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیوتا کے مہاجرتی بحران کو انتخابی مفادات کے لیے سیاسی طور پر استعمال کر رہی ہے۔ PSOE کا کہنا ہے کہ حکومت سیوتا میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد سے نمٹنے کے حوالے سے ہونے والی تنقید سے کامیابی سے نکل آئے گی۔
تاہم اس بحران کا PSOE کی انتخابی مقبولیت پر اثر پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ سینٹر فار سوشیالوجیکل ریسرچ (CIS) کے مطابق PSOE کی ووٹ حاصل کرنے کی شرح دو پوائنٹس کم ہو کر 31 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ PP کی حمایت 0.4 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 25.5 فیصد ہوگئی ہے۔ Vox 1.3 پوائنٹس اضافے کے بعد 16.6 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ Sumar مزید کمی کے بعد 5.7 فیصد پر آگئی ہے۔
سیوتا کے صدر خوان خیسوس ویواس نے ٹی وی پروگرام El Hormiguero میں گفتگو کرتے ہوئے اسپین کی مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرا خیال ہے کہ قومی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں پر پوری نہیں اتری۔‘‘
پروگرام کے دوران سیوتا کے عوام نے ویواس کا نعروں کے ساتھ استقبال کیا۔ تقریباً تین سو شہریوں نے سیوتا کے پلازا دے لاس ریئیس میں بڑی اسکرین پر انٹرویو دیکھا۔ متعدد افراد اسپین اور سیوتا کے پرچم بھی ساتھ لائے تھے۔
پیدرو سانچیز نے کہا کہ مراکش کے ساتھ تعلقات ختم کرنا سیوتا کے مہاجرتی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اسے مزید پیچیدہ کرنے کا سبب بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ممالک، خصوصاً ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات احترام اور حقائق پر مبنی ہونے چاہئیں، نہ کہ قیاس آرائیوں اور ایک دوسرے کو نظرانداز کرنے پر۔
سانچیز نے ان سیاسی جماعتوں سے بھی سوال کیا جو مراکش سے تعلقات توڑنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق 30 اور 31 جولائی کو سیوتا پہنچنے والے غیر قانونی مہاجرین کی بڑی تعداد کو واپس بھیجنے کے لیے مراکش کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مراکش کے ساتھ تعلقات ہی ختم کردیئے جائیں تو پھر ان مہاجرین کی واپسی کیسے ممکن ہوگی؟ سانچیز کے مطابق اسپین کو اس چیلنج سے نمٹنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مراکش کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری سیوتا اور پورے اسپین کے مفادِ عامہ کا تحفظ کرنا ہے۔
