بارسلونا/اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے خودمختار علاقوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ ہاؤسنگ قانون میں موجود اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے گھروں کے رہائشی استعمال کو سیاحتی استعمال پر ترجیح دیں اور قابلِ رسائی و سستی رہائش کی فراہمی میں اضافہ کریں۔ سانچیز نے یہ بات بارسلونا میں ’Vidas Futuras: un día en 2050‘ رپورٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
سانچیز نے ہاؤسنگ مارکیٹ کو بہتر انداز میں منظم کرنے اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے رہائش تک رسائی آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم انہوں نے اس موقع پر حکومت کی جانب سے زیرِمذاکرہ نئے ہاؤسنگ فرمان کی حتمی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ یہ فرمان حکومت اور اس کے پارلیمانی اتحادیوں کے درمیان مذاکرات کے مرحلے میں ہے اور کابینہ میں اس کی منظوری متوقع ہے۔
حکومت کی جانب سے زیرِغور اقدامات میں بے دخلی سے متاثرہ افراد کے تحفظ، سرمایہ کاری کرنے والے بڑے فنڈز کی جانب سے گھروں کی قیاس آرائی پر مبنی خریداری کو روکنے اور کرایہ داری کے معاہدوں میں استحکام لانے جیسے اقدامات شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ان تجاویز کی حتمی شکل مذاکرات کے نتیجے پر منحصر ہے۔
دوسری جانب کاتالونیا کے صدر سالوادور ایّا نے ہاؤسنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کاتالونیا میں کیے جانے والے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کمزور اور ضرورت مند افراد کے رہائشی حق کا تحفظ ضروری ہے۔ بارسلونا کے میئر جاؤمے کولبونی نے بھی شہریوں کے اپنے شہر میں رہنے کے حق پر زور دیا اور شہر میں سستی رہائش بڑھانے اور سیاحتی فلیٹس کی تعداد کم کرنے سے متعلق اقدامات کا حوالہ دیا۔
حکومت کے اس مؤقف کے پس منظر میں رہائش کے بحران پر عوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ کرایہ داروں کی تنظیموں نے بارسلونا سمیت مختلف مقامات پر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جبکہ ہاؤسنگ پالیسیوں پر حکومت کے اتحادیوں کے درمیان بھی مذاکرات جاری ہیں۔ سانچیز نے کہا کہ حکومت کو موجودہ مسائل کے ساتھ ساتھ مستقبل میں رونما ہونے والی سماجی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کو بھی ڈھالنا ہوگا۔
