اسپین کی حکومت نے رہائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے مجوزہ ہاؤسنگ ڈیکری کے تحت 10 اہم اقدامات سامنے رکھ دیے ہیں۔ حکومت ان تجاویز پر پارلیمانی گروپوں سے مذاکرات کر رہی ہے اور امید ہے کہ مجوزہ شاہی فرمان 29 ستمبر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں منظور کیا جا سکے گا۔
یہ اقدامات 87 سالہ ماری کارمن کو میڈرڈ کے علاقے ریتیرو میں واقع ان کے گھر سے بے دخلی اور اس کے بعد پیدا ہونے والے عوامی احتجاج کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ میڈرڈ کے پوئرتا دل سول میں سینکڑوں افراد نے خیمے لگا کر حکومت سے ہاؤسنگ ڈیکری منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومت کی تجاویز میں سب سے پہلے بے دخلی کے خلاف اضافی تحفظ شامل ہے تاکہ کمزور حالات سے دوچار افراد کو متبادل رہائش کے بغیر گھر سے نہ نکالا جائے۔
دوسری اہم تجویز بڑے سرمایہ کاری فنڈز کی جانب سے گھروں کی قیاس آرائی پر مبنی خریداری پر پابندی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ گھروں کو رہائش کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ کرایہ داری کے معاہدوں میں استحکام لانے اور موجودہ معاہدوں کو 2028 تک خودکار طور پر توسیع دینے کی تجویز ہے۔ موسمی یا مختصر مدت کے کرایوں کو بھی منظم کیا جائے گا تاکہ مبینہ طور پر معاہدوں کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
حکومت سیاحتی فلیٹس پر 21 فیصد IVA عائد کرنے کی تجویز بھی دے رہی ہے، جبکہ کرایہ داروں اور کرایوں میں کمی کرنے والے مالکان کے لیے ٹیکس مراعات دینے کی بات کی گئی ہے۔
پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے مالی معاونت، ریاستی ہاؤسنگ اسٹاک کو نجی قیاس آرائی سے محفوظ رکھنے اور مستقل طور پر محفوظ رہائشی منصوبوں کی تعمیر پر عائد IVA کم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
تاہم حکومتی اتحادی جماعت Sumar نے خبردار کیا ہے کہ مجوزہ ڈیکری پر اتفاق ابھی کافی دور ہے، جبکہ Podemos نے بھی اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
