اسپین کے شہر بینیدورم میں 33 سالہ برازیلی خاتون میریانے کو مبینہ طور پر اس کے 40 سالہ ساتھی نے گھریلو تنازع کے دوران چاقو کے وار کرکے قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے جرم چھپانے کی کوشش میں لاش کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور اسے دو سوٹ کیسوں میں رکھ کر بینیدورم اور فینسترَات کے درمیان ایک دیہی پہاڑی علاقے میں منتقل کیا، جہاں سوٹ کیسوں کو آگ لگا دی گئی۔
پولیس نے خاتون کے قتل کے الزام میں اس کے ساتھی کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دو دیگر افراد کو مبینہ طور پر جرم میں معاونت اور شواہد چھپانے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان میں سے ایک نے لاش منتقل کرنے کے لیے گاڑی فراہم کی جبکہ دوسرا ملزم لاش منتقل کرنے میں ساتھ گیا۔
تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب دونوں افراد اتوار کی شام بینیدورم پولیس اسٹیشن پہنچے اور پولیس کو بتایا کہ ان کے ایک جاننے والے نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جھگڑے کے دوران اپنی ساتھی کو قتل کردیا۔ دونوں افراد کے مطابق وہ بعد میں ملزم کے گھر گئے، جہاں انہوں نے صورتحال دیکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے انہیں دھمکیاں بھی دیں۔
پولیس نے اطلاع ملنے کے بعد پہاڑی علاقے میں کارروائی کی، جہاں خاتون کی لاش دو سوٹ کیسوں سے برآمد ہوئی۔ وہاں لگنے والی آگ کے باعث فائر بریگیڈ کو بھی طلب کرنا پڑا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ اور ملزم کے درمیان ماضی میں گھریلو تشدد کی کوئی شکایت یا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ ملزم کے ہاتھوں پر پٹیاں بھی بندھی ہوئی تھیں، جس سے تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ اسے واقعے کے دوران یا بعد میں چوٹیں آئی ہوں گی۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایلیکینتے کے انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میڈیسن منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ڈی این اے سمیت دیگر ذرائع سے مقتولہ کی باضابطہ شناخت کا عمل جاری ہے۔
بینیدورم میونسپلٹی نے واقعے پر پیر کو سرکاری سوگ کا دن منایا، جبکہ منگل کو مقتولہ کی یاد میں پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا اعلان کیا گیا۔
