بارسلونا کی سابق میئر ادا کولاؤ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے چند روز قبل وہ کرائے کا مکان چھوڑ دیا جہاں وہ گزشتہ 15 سال سے زائد عرصے سے مقیم تھیں۔ اب وہ اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ کولاؤ کے مطابق علیحدگی کے بعد صرف ایک آمدنی کے ذریعے گھر کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کرنا ان کے لیے مشکل ہوگیا تھا۔
کولاؤ نے یہ بات اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے RTVE کے پروگرام ’’کافے دی ایدیاس‘‘ میں ایک گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے سابق ساتھی آدریا الیمانی اور اپنے دو بچوں کے ساتھ اس مکان میں رہتی تھیں، تاہم تقریباً چار سال قبل ان کی علیحدگی ہوگئی تھی۔
سابق میئر کا کہنا تھا کہ موجودہ ہاؤسنگ مارکیٹ میں عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ایک گھر میں کم از کم دو افراد آمدنی حاصل کر رہے ہوں گے، اسی لیے اکیلی آمدنی پر گھر چلانے والے افراد کے لیے کرایہ ادا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
کولاؤ نے اپنے معاملے کو خاص طور پر ان خواتین کے مسئلے کی مثال قرار دیا جو شوہر سے علیحدگی کے بعد بچوں کی ذمہ داری بھی خود اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے کرائے داروں اور حقیقی معنوں میں چھوٹے رہائشی مکان مالکان کے درمیان ’’قیاس آرائی کرنے والوں‘‘ کے خلاف ایک باقاعدہ اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا اتحاد اب تک قائم نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کے بقول اس کے ذریعے معاشرے کی بڑی اکثریت کو ہاؤسنگ کے مسئلے پر متحد کیا جاسکتا ہے۔
ادا کولاؤ نے دو سال قبل فعال سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی تھی اور اس وقت ’’Fundació Sentit Comú‘‘ کی صدر ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ دوبارہ سیاست میں واپسی کے امکانات کے حوالے سے بھی خبروں میں رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں انہیں بارسلونا کی میئر شپ کی طرح کسی کردار میں مفید سمجھا گیا تو وہ واپسی پر غور کرسکتی ہیں۔
