میڈرڈ/ اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے اسپین اور فرانس کے درمیان مجوزہ دوستی معاہدے کو سینیٹ میں مسترد کیے جانے پر معذرت کی ہے۔ معاہدہ سینیٹ میں پاپولر پارٹی (PP) کی اکثریت کی حمایت سے مسترد ہوا۔ سانچیز نے پاپولر پارٹی پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایک ایسے معاملے کو نظریاتی اور سیاسی بحث میں تبدیل کردیا جو دراصل دو ممالک کے درمیان تعلقات سے متعلق ہے۔
سانچیز نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ موجودہ پارلیمانی مدت ختم ہونے سے پہلے اسپین کی پارلیمنٹ فرانس اور اسپین کے درمیان دوستی کے معاہدے کی منظوری دے دے گی۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود دوستی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اسپین کے وزیراعظم نے مزید کہا کہ معاہدہ کسی حکومت کے بجائے دو ریاستوں کے درمیان ہے، اس لیے اسے جماعتی سیاست اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ انہوں نے پاپولر پارٹی اور ووکس پر اسپین کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی تنقید کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں فرانس سمیت دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات پیدا ہونا تشویش کا باعث ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے معاہدے کو مسترد کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا، تاہم کہا کہ وہ جمہوری عمل اور ووٹ کا احترام کرتے ہیں۔ میکرون نے معاہدے کو ایک اچھا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسپین اور فرانس کے درمیان پہلے سے مضبوط دوطرفہ تعلقات کو سیاسی سطح پر مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
میکرون نے کہا کہ پاپولر پارٹی کے لیے معاہدے کی آئینی حیثیت پر اطمینان حاصل کرنا جائز تھا، لیکن اسپین کی آئینی عدالت نے گزشتہ ہفتے متفقہ طور پر معاہدے کو آئین کے مطابق قرار دے کر تمام شکوک ختم کردیے تھے۔ ان کے مطابق اب معاہدے کی منظوری کے لیے راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایک عارضی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی بڑا بحران نہیں اور دونوں ممالک تعاون جاری رکھیں گے۔
