کارنیلا دے یوبریگات میں 32 ہفتوں کے ہائی رسک حمل کی شکار 25 سالہ خاتون سحر ایمان اور اس کا خاندان منگل کے روز گھر سے بے دخلی سے عین آخری وقت میں بچ گیا۔ خاندان گزشتہ ساڑھے چار سال سے سانت ایلدیفونس کے علاقے میں 40 مربع میٹر سے زائد کے فلیٹ میں رہائش پذیر ہے، جس کا ماہانہ کرایہ 800 یورو سے زیادہ ہے۔
سحر کے شوہر محمد اور ان کی دو کمسن بیٹیوں کی موجودگی میں گھر خالی کرانے کی کارروائی ہونے والی تھی۔ خاندان نے عدالت سے بے دخلی مؤخر کرنے کی درخواست کی اور سحر کے حمل سے متعلق طبی رپورٹ بھی پیش کی، تاہم کارنیلا کی عدالت نے ابتدائی طور پر قرار دیا کہ صرف حمل بے دخلی مؤخر کرنے کے لیے کافی وجہ نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق ایک یا دو ماہ کی مہلت دینے کے باوجود خاتون حاملہ یا زچگی کے بعد کی حالت میں ہوگی۔
اس دوران بارسلونا کی ’پلیٹ فارم آف افیکٹڈ بائی مورگیجز‘ (PAH) کے تقریباً ایک درجن کارکن خاندان کی مدد کے لیے گھر پہنچ گئے۔ یہ خاندان اس سے قبل بھی تین مرتبہ بے دخلی کی کارروائی کا سامنا کر چکا تھا۔
سحر کے مطابق وہ اور اس کا خاندان 11 سال قبل پاکستان سے اسپین آیا تھا۔ اس نے بارسلونا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تجارت کی تعلیم حاصل کی اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں لاجسٹکس کے شعبے میں کام کیا، لیکن پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد ملازمت سے محروم ہوگئی۔ اس کے شوہر نے بھی بارسلونا یونیورسٹی سے سپلائی چین میں ڈاکٹریٹ کی، تاہم ورک پرمٹ نہ ہونے کی وجہ سے مستقل ملازمت حاصل نہیں کر سکے۔
بعد ازاں سحر نے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے گلووو میں بطور ڈیلیوری ورکر کام کیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتظامیہ کے ذریعے سماجی کرائے کے مکان کے حصول کی کوشش بھی کی، لیکن مالک کمپنی نے اسے قبول نہیں کیا۔
منگل کی صبح شدید بارشوں کے دوران خاندان اپنا سامان منتقل کر رہا تھا کہ اچانک بے دخلی روک دیے جانے کی اطلاع ملی۔ اسی روز ہسپانوی حکومت نے 2030 تک بے دخلی سے تحفظ فراہم کرنے والے نئے حکم نامے کی منظوری بھی دی، جس کی پارلیمان سے توثیق متوقع ہے۔
سحر نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف وہ نہیں بلکہ بہت سے دوسرے کمزور خاندان بھی ایسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور کسی کو بھی بے گھر نہیں ہونا چاہیے۔
