میڈرڈ: اسپین میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی تعداد تقریباً دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
اسپین کی وزارتِ شمولیت، سماجی تحفظ اور ہجرت کے تازہ ترین سوشل سکیورٹی اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں یورپی یونین کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد 10 لاکھ سے کم تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 26 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسپین میں مجموعی غیر ملکی کارکنوں کی تعداد بھی صرف 12 ماہ میں، اگست 2025 سے اگست 2026 کے دوران، 30 لاکھ 69 ہزار سے بڑھ کر 35 لاکھ 36 ہزار 836 تک پہنچ گئی۔ یہ ایک سال کے دوران ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس اضافے کو حکومت کی جانب سے اپریل اور جون کے درمیان کیے گئے تارکینِ وطن کے ریگولرائزیشن کے عمل سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اس عمل کے تحت تقریباً 12 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے اب تک 6 لاکھ سے زائد درخواستوں پر کارروائی کی جا چکی ہے۔
یہ صورتحال اسپین کی بدلتی ہوئی لیبر مارکیٹ کی بھی عکاسی کرتی ہے، جہاں غیر ملکی افرادی قوت معیشت اور مختلف شعبوں میں بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہی ہے۔
تاریخی طور پر صورتِ حال اس کے برعکس تھی۔ 1960 کی دہائی اور 1970 کی دہائی کے پہلے نصف میں تقریباً 20 لاکھ ہسپانوی شہری روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں جرمنی اور وسطی یورپ کے دیگر ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس دور میں اسپین میں کم اجرت اور محدود روزگار کے مواقع کے باعث بہت سے افراد بیرونِ ملک ہجرت کرتے تھے، جبکہ بعض افراد اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیک وقت دو ملازمتیں بھی کرتے تھے۔
