بارسلونا: کاتالونیا میں رواں موسمِ گرما کے دوران اعضا عطیہ کرنے اور پیوند کاری کے معاملات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق شدید گرمی، فالج کے بڑھتے ہوئے واقعات اور عوام میں اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اس اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
کاتالان آرگن ٹرانسپلانٹ تنظیم Ocatt کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران کاتالونیا میں مجموعی طور پر 1,001 اعضا کی پیوند کاری کی گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں 271 مؤثر اعضا عطیہ کرنے والے افراد سامنے آئے، جو 2025 کے مقابلے میں 16.3 فیصد زیادہ ہیں۔
صرف اگست میں 43 افراد نے وفات کے بعد اپنے اعضا عطیہ کیے جبکہ چار زندہ عطیہ کنندگان بھی شامل تھے۔ ان عطیات کے نتیجے میں 153 ٹرانسپلانٹ کیے گئے۔ جولائی میں بھی 141 پیوند کاری کے آپریشن ہوئے، جبکہ 2026 کی ماہانہ اوسط 125 رہی۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران فالج کے واقعات میں اضافے نے بھی عطیہ کنندگان کی تعداد بڑھانے میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس تعلق کے بارے میں ابھی مزید سائنسی تحقیق اور شواہد کی ضرورت ہے۔
بادالونا کے Germans Trias i Pujol اسپتال (Can Ruti) نے بھی اگست میں ریکارڈ قائم کیا، جہاں نو افراد نے متعدد اعضا عطیہ کیے۔ ان عطیات سے 29 اعضا حاصل کیے گئے، جن میں دو دل، تین پھیپھڑے، سات جگر، 16 گردے اور ایک لبلبہ شامل تھا۔
دوسری جانب کاتالونیا میں اہلِ خانہ کی جانب سے اعضا عطیہ کرنے سے انکار کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔ 2025 میں یہ شرح 30 فیصد تھی جو 2026 میں اب تک کم ہو کر 24 فیصد رہ گئی ہے۔
حکام کے مطابق اسکولوں، بنیادی طبی مراکز اور مختلف ثقافتی برادریوں میں گزشتہ برسوں کے دوران چلائی جانے والی آگاہی مہمات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ Ocatt نے اعلان کیا ہے کہ 2027 سے اسپتالوں کے ثقافتی ترجمانوں کو بھی اعضا عطیہ کرنے کے حوالے سے تربیت دی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران پانی کی کمی اور جسم میں خون کے گاڑھا ہونے سے بعض افراد میں فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے ہیٹ ویو کے دوران فالج سے بچاؤ کے پیغامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
