میڈرڈ/ طب کے شعبے میں نوبیل انعام 2026 امریکی سائنس دان کارل ڈائسرورتھ اور جرمن محققین پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل کو آپٹو جینیٹکس کی بنیاد رکھنے والی اہم دریافتوں پر دیا گیا ہے۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق ان سائنس دانوں کی تحقیق نے نیورو سائنس میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔
آپٹو جینیٹکس ایک ایسا جدید طریقہ ہے جس کے ذریعے روشنی کی مدد سے زندہ دماغ میں مخصوص عصبی خلیوں (نیورونز) کی سرگرمی کو انتہائی درستگی کے ساتھ آن یا آف کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ دماغ کے مختلف عصبی سرکٹس یادداشت، جذبات، درد، سماجی رویوں، توجہ، پیاس اور خوراک جیسے افعال کو کس طرح کنٹرول کرتے ہیں۔
پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں ایک واحد خلیے والی کائی Chlamydomonas میں ’’چینل روڈوپسن‘‘ نامی غیر معمولی پروٹین دریافت کی۔ روشنی پڑنے پر یہ پروٹین ایک چینل کھولتا ہے جس سے برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلیے میں داخل ہوتے ہیں اور برقی سگنل پیدا ہوتا ہے۔
کارل ڈائسرورتھ نے اس پروٹین کے جین کو چوہوں کے عصبی خلیوں میں منتقل کرکے روشنی کے ذریعے اعصابی سگنل کو فعال کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 2005 میں اپنی تحقیق شائع کی، جبکہ 2007 میں زندہ چوہوں کے دماغ میں روشنی کے ذریعے عصبی خلیوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کامیابی سے ثابت کیا۔
نوبیل کمیٹی کے مطابق آپٹو جینیٹکس نے الزائمر، پارکنسن، ڈپریشن، اضطراب اور شیزوفرینیا جیسے اعصابی و نفسیاتی امراض کو سمجھنے میں نئی راہیں کھولی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو مستقبل میں بینائی بحال کرنے سمیت مختلف طبی علاج کے لیے بھی استعمال کرنے پر تحقیق جاری ہے۔
