روم/ اٹلی کی پارلیمنٹ نے وزیرِاعظم جورجیا میلونّی کی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا نیا انتخابی قانون منظور کر لیا ہے، جس کا بنیادی مقصد انتخابات کے بعد واضح پارلیمانی اکثریت کو یقینی بنانا اور سیاسی عدم استحکام کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ نئے قانون کو ’’اسٹیبیلیکم‘‘ (Stabilicum) کا نام دیا گیا ہے۔
قانون کی منظوری خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوئی، جس میں 227 ارکان نے حق میں جبکہ 164 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ میلونّی کو خدشہ تھا کہ حکمران اتحاد کے بعض ارکان خفیہ ووٹنگ کا فائدہ اٹھا کر قانون کو مسترد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اتحادی ارکان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اصلاحات ناکام ہوئیں تو وہ استعفیٰ دے سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
نئے قانون کی سب سے اہم شق کے تحت وہ انتخابی اتحاد جو کم از کم 42 فیصد ووٹ حاصل کرے گا، اسے اضافی نشستوں کا ’’اکثریتی انعام‘‘ دیا جائے گا۔ فاتح اتحاد کو ایوانِ زیریں میں 70 اور سینیٹ میں 35 اضافی نشستیں ملیں گی۔ حکام کے مطابق اس سے پارلیمان میں فاتح اتحاد کو تقریباً 10 فیصد سے زائد نشستوں کا اضافی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
اصلاحات کے تحت یک رکنی انتخابی حلقوں کا نظام ختم کرکے زیادہ تر متناسب نمائندگی بحال کی گئی ہے، جبکہ ووٹرز کو جماعتی فہرستوں میں موجود امیدواروں میں سے اپنی ترجیح دینے کا محدود حق بھی حاصل ہوگا۔
اپوزیشن کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ ہر انتخابی اتحاد کو انتخابات سے پہلے وزیرِاعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنا ہوگا۔ دائیں بازو کے اتحاد میں میلونّی کی قیادت واضح ہے، تاہم اپوزیشن کے ترقی پسند اتحاد میں ایلی شلاین اور جوزیپے کونٹے کے درمیان قیادت کا تنازع جاری ہے۔
ماہرینِ آئینی قانون نے خبردار کیا ہے کہ 42 فیصد کی حد پوری نہ ہونے کی صورت میں قانون الٹا سیاسی تعطل پیدا کر سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال اٹلی کو دوبارہ انتخابات کی طرف لے جا سکتی ہے، جبکہ آئینی عدالت بھی قانون کی بعض شقوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
