پاکستان میں وفات اور لواحقین کی قانونی ذمہ داریاں۔تحریر:- مظہر حسین راجہ

کل ایک خاتون عزیزہ سے کل ملاقات ہوئی کہنے لگی ساڑھے چار سال سے میری پینشن ٹرانسفر نہیں ہوئی کیونکہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے درست طریقہ اختیار نہ کیا اور کاغذات ایک نام نہاد "سیانے” کے ہتھے چڑھا دئیے، گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ایسا اکثر ہوتا ہے۔ اس لیے فوتگی کے بعد کاغذات کی تکمیل کا درج ذیل مکمل طریقہ کار ہے جو کسی بھی نام نہاد گاؤں کے "سیانے” سے اصلاح لیے بغیر اپ خود کر سکتے ہیں۔ گاؤں کے تقریبا ہر گھر میں ایک میٹرک پاس بیٹا/ بیٹی یا عزیز رشتہ دار موجود ہوتا ہے جو با آسانی یہ سارا کام خود کر سکتا ہے۔
نمبر1:- سب سے پہلے متعلقہ یونین کونسل سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرناہوتا یے جو کہ تمام قانونی کارروائیوں (وراثت، ،اکاؤنٹ، جائیداد کی تقسیم) کی بنیاد ہوتا ہے۔
اگر موت ہسپتال میں ہوئی ہے تو ہسپتال انتظامیہ سے "ڈیتھ رپورٹ” حاصل کریں۔
اگر موت گھر پر ہوئی ہے، تو قریبی یونین کونسل یا بلدیہ میں رجوع کریں۔اور اسی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر متعلقہ یونین کونسل میں وفات یا شہادت کا اندراج کروائیں۔ اور اس مقصد کے لیے شناختی کارڈ یا نادرا "ب” فارم، اور فوت ہونے والے کی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ اورسیز کی صورت میں جو کاغذات متعلقہ ملک سے ملے ہیں یا سفارت خانے کا لیٹر ملا ہے وہ ساتھ رکھیں۔
نمبر 2:- یونین کونسل کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر نادرا سے کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کریں جو زیادہ تر ادارے قبول کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی نادرا سے فوت شدہ شخص کا شناختی کارڈ ختم کروا دیں، مرحوم کا اصل شناختی کارڈ اگر موجود ہو تو ساتھ لے کر جائیں۔
نمبر3:- اگر جائیداد یا بینک اکاؤنٹس ہیں، توفیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) حاصل کریں (نادرا سے) او نادرا یا عدالت کے ذریعے وراثتی سرٹیفکیٹ یا سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ اور جائداد کی تقسیم کے لیے پٹوار خانے یا تحصیل آفس سے رجوع کریں۔ گاؤں کی صورت میں جائیداد کا انتقال چڑھانے کے لیے گاؤں کے نمبردار کو بھی ساتھ لے جانا ضروری یے۔
نمبر4: اگر فوت ہونے والا شخص کسی
بینک میں اکاؤنٹ رکھتا تھا،پنشن لے رہا تھا،یا کسی کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا،
تو جلد متعلقہ ادارے کو اطلاع۔۔
مرحوم کی وفات کے بعد جائداد کی تقسیم کے دوران، بینک اکاؤنٹ یا پینشن کسی کے لیے کوئی بھی شخص غلط راستہ اختیار نہ کرے یعنی جائیداد کسی ایسے شخص کے نام ٹرانسفر نہ کی جائے جو وارث نہیں اور پینشن بھی کوئی ایسا شخص وصول نہ کرے جو قانونی وارث نہیں ورنہ اس کے لیے سخت قوانین ہیں۔ اس فراڈ کی ایف ائی ار بھی درج ہوتی ہے اور گرفتاری بھی عمل لائی جاتی ہے۔