ارٹیفیشل انٹیلیجنس اور پاکستانی بچے،راجہ مظہر حسین

WhatsApp Image 2025-08-09 at 23.36.39

پاکستان میں بھی دنیا بھر کی طرح ارٹیفیشل انٹیلیجنس سیکھائ جا رہی ہے اور آئے دن مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں لڑکے/لڑکیوں کے درمیان اے آئی کے مقابلے جا رہتے ہیں حتی کہ دسویں جماعت تک کے بچوں کو بھی درجنوں اے ائی کے کورسز سے متعارف کروایا جا رہا ہے۔

اسی طرح کے مقابلے رواں ہفتہ کے دوران AeroVenture کے زیر اہتمام NUST یونیورسٹی اسلام آباد اور SINES (انجینیئرنگ اینڈ سائنس) سکول اسلام اباد میں منعقد کیے گئے جس میں راولپنڈی و اسلام اباد کے مختلف سکولز و کالجز کے بچوں نے حصہ لیا ۔ اور بچوں کو دو ہفتے تک اے ائی کے نئے ٹولز یعنی کوڈنگ و روبوٹکس، مشین لرننگ اور اے آئی کے مستقبل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس مقابلے میں دیگر بچوں کے علاوہ کوٹلہ ارب علی خان کے نواحی گاوں سرسال کے رہائشی سابق وفاقی ڈپٹی سیکریٹری مظفر اقبال راجہ کے پوتے محمد صالح راجہ نے بھی حصہ لیا اور اپنا پروجیکٹ Smart Chat 360 پیش کر کے حاضرین کو حیران کر دیا اور Lift-Off Innovator ، اور Innovation Star/Best Display اور Best Oratator و دیگر مقابلے اپنی ٹیم کے ہمراہ نمایاں پوزیشن میں جیت کر کئی سرٹیفیکٹ حاصل کیے۔ اس مقابلے میں حصہ لینے والے دیگر بچوں کو بھی تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
یاد رہے کہ ارٹیفیشل انٹیلیجنس بہت جلد مختلف شعبوں میں اپنی جگہ بنا لے گی۔ تمام وزارتیں و قانون نافذ کرنے والے ادارے مستقبل میں ارٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماتحت کام کریں گے جس سے عوام کا سیٹ پر بیٹھے آفیسر یا کلرک سے ڈائریکٹ رابطہ ختم ہو جائے گا۔ اور کسی بھی کام کے لیے تمام وزارتوں و محکمہ جات کی طرف سے ان لائن پلیٹ فارم متعارف کروایا جائے گا جس سے بہت سے بنیادی کام لوگ گھر بیٹھے خود کر لیا کریں گے جس کے لیے ہر شخص کو ایک مخصوص پاسورڈ یا ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ مہیا کیا جائے گا اور متعلقہ دفتر میں جانے کی بجائے ای گورنمنٹ کے قانون کے تحت عوام گھر بیٹھے اپنا کام خود کر لیا کرے گی۔ اس لیے ارٹیفیشل انٹیلیجنس کو سیکھنا بہت ضروری ہے وگرنہ اگلے پانچ تا دس سال میں دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی ٹیکنالوجی کی دنیا میں داخل ہونے والا ہے جس سے رشوت ستانی، قبضہ مافیا کے فراڈ، گاڑی و موبائل چوری، ملاوٹ، سفارش، اور اقرباء پروری جیسے جرائم کا کافی حد تک قلعہ قمہ ہو جائے گا۔

یورپ میں بھی بہت سے جرائم ٹیکنالوجی کی وجہ سے ختم ہو گئے ہیں۔ اور وہ وقت دور نہیں جب مادر وطن بھی امن و سلامتی کا گہوارہ بنے گا کیونکہ ہمارے بچے ٹیکنالوجی کی طرف بھر پور توجہ دے کر خود سیکھ رہے ہیں اور گھر کے بڑوں کو بھی سکھلا رہے ہیں جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

والدین کو بھی چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہونے کے لیے بچوں کی مدد کریں اور ان کے ہاتھ میں گیم کھیلنے کے لیے موبائل نہ دیں بلکہ اپنے بچے کے اندر ارٹیفیشل انٹیلیجنس سیکھنے کی دلچسپی پیدا کریں۔ والدین بچوں کو لاڈ پیار میں نئے و مہنگے موبائل خرید کر دے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے بچے کی ہر خواہش پوری کر رہے ہیں جبکہ بچوں کو کوئی پتہ نہیں کہ موبائل کا مثبت استعمال کیسے کرنا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ آج کل کے بچے کسی بھی جسمانی گیم کی بجائے 8 تا 16 گھنٹے تک والدین کی نگرانی میں موبائل فون پر گیم کھیلتے ہیں یا کارٹون دیکھتے ہیں جسے طبعی ماہرین نے بچوں کی صحت و نظر کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے دیا ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کو ٹائم دیں اور گیم و کارٹون کی بجائے ارٹیفیشل انٹیلیجنس سیکھائیں یا اس طرف دلچسپی پیدا کرنے کے لیے یو ٹیوب اے ائی چینل دکھائیں یا اس مقصد کے لیے اے آئی ماہرین سے رابطہ کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے