رباط (دوست نیوز)مراکش کے بادشاہ محمد ششم جمعے کے روز پارلیمانی قانون ساز مدت کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے دوران بظاہر کمزور حالت میں دکھائی دیے، جس کے بعد ان کی صحت سے متعلق تشویش پیدا ہوگئی۔ ہسپانوی اخبار 20 منٹوس (20minutos) کی 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، 63 سالہ بادشاہ بیساکھی کے سہارے چلتے نظر آئے اور خطاب کے دوران ان کی آواز بھی مدھم اور بے جان محسوس ہوئی۔
بادشاہ نے شمالی افریقی ملک مراکش کے دارالحکومت رباط میں منعقدہ سرکاری تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مراکش کا روایتی لباس، جلابیہ، پہن رکھا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے بیٹے شہزادہ مولائے حسن اور بھائی شہزادہ مولائے رشید بھی موجود تھے۔
تقریب کے دوران محمد ششم ایک کھلی گاڑی میں سوار ہو کر شہریوں کو سلام کرتے دکھائی دیے۔ تاہم، گاڑی سے اترنے کے بعد جب وہ پیدل چلنے لگے تو انہیں اپنے بائیں بازو میں پکڑی ہوئی بیساکھی کا سہارا لینا پڑا۔
بعد ازاں مراکشی پارلیمان میں بادشاہ نے خطاب کیا، لیکن اس دوران بھی ان کی آواز کمزور اور مدھم محسوس ہوئی۔ تاہم، رپورٹ میں ان کی اس ظاہری کیفیت کی کوئی مصدقہ طبی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
اپنے خطاب میں محمد ششم نے اسپین اور مراکش کے درمیان تعلقات اور سیوتا (Ceuta) سے متعلق مہاجرت کے بحران پر بھی بات کی۔ انہوں نے اسپین کے بعض سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا، تاہم کسی شخصیت یا ادارے کا نام نہیں لیا۔
مراکشی بادشاہ نے مزید کہا کہ اسپین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا مراکش کا ایک خودمختار فیصلہ ہے اور اسے کسی قسم کے دباؤ، دھمکیوں یا بلیک میلنگ سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ رپورٹ میں بادشاہ کی ظاہری جسمانی کیفیت کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان کی صحت کے بارے میں کسی نئی بیماری یا طبی تشخیص کی تصدیق نہیں کی گئی۔
